سانجھی خوشیاں
مذہب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ انہی کی کوکھ سے روایات، اقدار اور رسومات جنم لیتی ہیں، جو فرد کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی صورت میں ڈھلتی ہیں۔ یہ وہ رنگ ہیں
مذہب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ انہی کی کوکھ سے روایات، اقدار اور رسومات جنم لیتی ہیں، جو فرد کے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی صورت میں ڈھلتی ہیں۔ یہ وہ رنگ ہیں
تین دہائیاں قبل ’’ڈنکی‘‘محض ایک جانور کا انگریزی نام سمجھا جاتا تھا ۔ پھر اچانک یہ لفظ کسی پر اسرار مہم کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ جوں جوں اس نے زور پکڑا تو ہر خاص و عام کو اس
ماضی آئینہ کی طرح ہوتا ہے ۔ جس میں جھانک کر قومی حلیہ سلجھایا جاتا ہے ۔ تاریخی نشانات ، حیرت انگیز فن تعمیر ، تہذیبوں کے آثار اچھے یا برے ماضی کے عکاس ہوتے ہیں ۔ مہذب قومیں اپنی
موجودہ دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ یہ تیز اور عجیب بھی ہے۔ اسکی طوفانی آمد نے سب کچھ بدل دیا ہے ۔ وقت بدل گیا ہے۔ رواج اور مزاج بدل گئے ہیں۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی نے سب کو موبائل فون
کتب بینی بہت عمدہ ذوق اور وصف ،جبکہ کتاب لکھنا اک عظیم عمل ہے۔ باشعور اور مہذب معاشروں میں ان دونوں کا رواج عام ہے۔ جہاں کتاب کی بڑی قدر کی جاتی ہے ۔کسی کو کتاب کا تحفہ دینا انتہائی
فیصلہ سازی اک نازک اور پیچیدہ عمل ہے ۔ فیصلے مشکل اورقومی نوعیت کے ہوں تو کافی ریاضت اور مشاورت درکار ہوتی ہے۔ ملکی سالمیت ، معیشت اور جمہوریت سے جڑے فیصلے بڑی احتیاط اور احساس ذمہ داری کے متقاضی
شام مشرق وسطیٰ کا ایک اسلامی ملک ہے ۔اس کے شمال میں ترکیہ، مشرق میں عراق ، جنوب میں اردون، جنوب مغرب اسرائیل اور مغرب میں بحیرہ روم اور لبنان واقع ہیں ۔ آبادی تقریباً اڑھائی کروڑ ہے ۔ اس
فیصلے انسانی سوچ اور صلاحیت کے غماز ہوتے ہیں ۔ کامیابی اور ناکامی کا سبب بنتے ہیں ۔ کچھ فیصلے گھبراہٹ اور جلدی میں سرزد ہوتے ہیں ۔ کچھ فیصلوں کے پیچھے گہری سوچ بچار اور ریاضت ہوتی ہے ۔
شعب صحافت بہت قدیم اور مقدس پیشہ ہے ۔ فروغ ِعلم و آگاہی میں اس کا مسلمہ کردار ہے ۔ اس سے منسلک لوگ بڑے معتبر اور مہذب ہوا کرتے تھے ۔ ان کی بات میں اثر ہوتا تھا ۔
موجود حالات دیکھ کر دل بہت کڑھتا ہے ۔ میرا پیارا وطن ایسا تو نہ تھا ۔ مذہبی و سیاسی اختلافات کے باوجود اپنی مٹی پہ سب مر مٹنے کو تیار ہوتے تھے ۔ اپنی فوج سے لازوال محبت کرتے