Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

تبوک میں چٹان کے درمیان شگاف کے پیچھے کیا کہانی چھپی ہے؟حیران کن انکشافات

سعودی عرب کے شمالی صوبے تبوک میں ایک حیران کن چٹان پائی جاتی ہے۔ یہ تیما کمشنری کے جنوبی علاقے جبل النصلۃ میں واقع ہے-

دو چٹانیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں لیکن دونوں کے درمیان ایک شگاف ہے۔ چھوٹی چٹان بائیں جانب اور بڑی چٹان دائیں جانب ہے۔ چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔

دونوں چٹانوں کے درمیان شگاف کے بارے میں مقامی سطح پر بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں چٹانیں پہلے ایک ہی تھیں۔ آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے شگاف پڑنے پر دو بن گئیں۔ جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کے درمیان شگاف ان میں معدنیات کی وجہ سے پڑا ہے۔

تیسرا دعویٰ بڑا انوکھا ہے، جس کے مطابق یہی وہ چٹان ہے، جس سے حضرت صالح کی اونٹنی برآمد ہوئی تھی۔ تیما کے باشندے اسے ’حصاۃ النصلۃ‘ کہتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دونوں چٹانیں چھوٹے حجم کے پتھریلے اسٹینڈ پر کھڑی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک چٹان چکنی ہے جبکہ دوسری ٹیڑھی میڑھی ہے۔ جس پر آسانی سے چڑھا جاسکتا ہے۔

ماہرین اثار قدیمہ کے مطابق چٹان پر ثمودی دور کے تاریخی نقوش ہیں جو لگ بھگ تین ہزار برس پرانے ہیں۔ ان پر جانوروں، پرندوں اور مختلف شکل و صورت کے رینگنے والے جانوروں کی تصاویر نقش ہیں۔

یہ بھی پڑھیں