Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

دنیا کا انوکھا گاؤں جہاں مردوں کا داخلہ ممنوع، صرف خواتین کی بستی

نیروبی (نیوز ڈیسک)دنیا میں مختلف رسم و رواج اور طرزِ زندگی رکھنے والی کئی بستیوں کا وجود ہے، تاہم افریقہ کے ملک کینیا میں واقع ایک گاؤں اپنی انفرادیت کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس گاؤں میں مردوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہے اور یہاں صرف خواتین اور بچے رہتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اس گاؤں کا نام اوموجا ہے، جو کینیا کے سامبورو صوبے میں واقع ہے۔ بظاہر یہ گاؤں کینیا کے دیگر دیہی علاقوں جیسا ہی دکھائی دیتا ہے، جہاں مٹی اور گائے کے گوبر سے بنے گھر اور روایتی طرزِ زندگی نظر آتی ہے، مگر یہاں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ اس بستی میں کوئی مرد موجود نہیں۔

تقریباً 30 سال قبل اس گاؤں کی بنیاد سامبورو برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے رکھی، جو گھریلو تشدد، کم عمری کی شادی اور مختلف قسم کی زیادتیوں کا شکار رہی تھیں۔ ان خواتین نے اپنی حفاظت اور خودمختاری کے لیے صرف خواتین پر مشتمل ایک الگ بستی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔

صرف خواتین اور بچوں کی محفوظ پناہ گاہ

گاؤں میں رہنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے گھروں اور شوہروں کے ہاتھوں شدید ظلم اور ذلت کا سامنا کیا، تاہم اوموجا میں رہ کر وہ خود کو آزاد اور محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ 2023 کی ایک رپورٹ میں 26 سالہ کرسٹین ستیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق وہ رشتوں سے بددل ہو کر واپس اپنے آبائی گاؤں جانا چاہتی تھیں، مگر جہیز کے تنازعے کے باعث انہیں دوبارہ شوہر کے پاس بھیجنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد انہوں نے اوموجا میں پناہ لی۔

ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت

اوموجا گاؤں کی بنیاد ریبیکا لولوسولی نے 15 دیگر خواتین کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مردانہ غلبے والے معاشرے میں خواتین کے خلاف مظالم پر آواز اٹھانا ناگزیر ہے۔ آج اس گاؤں میں تقریباً 40 خاندان آباد ہیں۔

خواتین اپنی روزی روٹی کے لیے روایتی موتیوں کے زیورات تیار کر کے سیاحوں کو فروخت کرتی ہیں۔ اگرچہ انہیں کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے، جن میں قریبی علاقوں سے مویشیوں کی چوری جیسے مسائل شامل ہیں، تاہم اس کے باوجود خواتین نے یہاں خود مختار زندگی گزارنے کا عزم کر رکھا ہے۔

اوموجا کی خواتین کا کہنا ہے کہ وہ صرف ماں اور عورت کے طور پر پُرامن زندگی گزارنا چاہتی ہیں، نہ انہیں دوبارہ شادی کی خواہش ہے اور نہ ہی وہ اپنے پرانے گھروں کو لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:کھانے کے فوراً بعد چائے پینے والوں کیلئے ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

یہ بھی پڑھیں