مکہ مکرمہ(انٹرنیشنل ڈیسک)رواں برس رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کے مقامات مقدسہ مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں زائرین کی بہت بڑی تعداد پہنچی۔
لوگوں کے ہجوم کا انتظام کرنے پر سعودی حکومت رمضان کے دوران ایک سے زائد عمرے کرنے پر پابندی لگانے اور دیگر اقدامات پر مجبور ہوگئی۔
تاہم زائرین کی آمد یہ سلسلہ جاری و ساری اور گزشتہ روز 27ویں شب اپنے عروج پر جا پہنچا۔
مزیدپڑھیں :بدنام کرنے کی کوشش، عمران عباس پھٹ پڑے
حرمین شریفین کے معاملات سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے والے سرکاری ایکس اکاؤنٹ انسائیڈ دی حرمین نے گزشتہ شب سے متعلق کئی ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کیں۔
جن میں عبادت گزاروں کو بہت بڑی تعداد میں مسجد الحرام اور اس کے اطراف میں دیکھا گیا۔
اسی ٹوئٹر ہینڈل نے ایک پوسٹ میں بتایا کہ رمضان المبارک کی 27ویں شب کو تراویح سے قبل مسجد الحرام اپنی پوری گنجائش کے ساتھ بھر چکی تھی۔

پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک اندازے کے مطابق مسجد میں 25 لاکھ زائرین موجود تھے۔
نمازیوں کی بھاری تعداد نہ صرف مسجد الحرام کے اندر موجود تھی بلکہ ایک بہت بڑی تعداد مسجد کی طرف جانے والے راستوں پر بھی صفیں بنا کر سجدہ ریز تھے۔
زائرین کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ مکہ کے کلاک ٹاور کی تمام منزلوں کے علاوہ کعبہ سے کئی کلومیٹر دور تک نمازی موجود تھے۔
اس سے قبل جمعۃ الوداع ہونے کےسبب دوپہر میں بھی نمازیوں کی بھاری تعداد نمازِ جمعہ ادا کرنے مسجد نبوی اور مسجد الحرام پہنچی تھی۔
خیال رہے کہ رمضان کی 27ویں شب کو لیلۃ القدر کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
لیلۃ القدر وہ فضیلت والی رات ہے جس میں عبادت کرنا ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اور اسے طاق راتوں میں تلاش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔




