Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اپوزیشن کے پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے تاحال زیرِ التواء، شیخ وقاص اکرم

اسلام آباد (اے بی این نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ اپوزیشن ارکان نے پارلیمانی کمیٹیوں کی رکنیت سے تحریری استعفے دے دیے ہیں، تاہم اسپیکر قومی اسمبلی نے تاحال ان استعفوں کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔

اے بی این نیوز کے پروگرام ’’سوال سے آگے‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اس معاملے پر اسپیکر کے چیمبر میں آل پارٹیز مشاورت ہو سکتی ہے، جبکہ استعفوں میں تاخیر پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث انتظامی اور انسانی سطح پر ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بغیر ٹھوس بنیاد کے عمومی بیانات دینا نامناسب ہے، ایسی گفتگو سے کئی افراد بلاوجہ شک کے دائرے میں آ جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ الزام لگانے سے قبل حقائق اور بنیاد واضح ہونی چاہیے، جبکہ اختلاف رکھنے والوں کو کھل کر مگر ذمہ داری کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کراچی میں جلسے سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جلسے کی اجازت دی گئی، فیس وصول کی گئی، تاہم بعد میں مختلف رکاوٹیں ڈال دی گئیں۔ ان کے مطابق ابتدا میں پی ٹی آئی جلسے کو غیر سنجیدہ لیا گیا، مگر بعد میں خوف نمایاں ہوا اور عوامی اجتماع سے گھبراہٹ کے باعث راستے بند کیے گئے۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی ووٹر کے باہر نکلنے پر حکومتی ردعمل بدل گیا، موٹرویز بند کرنا عوامی اجتماع پر قدغن کے مترادف ہے، جبکہ اجازت دینے کے بعد رکاوٹیں ڈالنا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کو طاقت سے روکنے کی کوشش ناکام رہی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کا مؤقف سیکیورٹی خدشات کا تھا، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس نظر آئی۔ اگر واقعی سیکیورٹی خدشات تھے تو سفر کی اجازت کیسے دی گئی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے کے وزیر اعلیٰ کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کس نے دی، اور خدانخواستہ کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوتی؟

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق اس صورتحال نے وفاقی حکومت کی ذمہ داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ جمہوری اصولوں اور سیاسی روایات کو نظرانداز کیا گیا۔
مزید پڑھیں‌:سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،4خوارج ہلاک

یہ بھی پڑھیں