کراچی(اوصاف نیوز) یونیورسٹی کے طلباء نے ایک ایسا آلہ تیار کیا ہے جو دل کا دورہ پڑنے سے پہلے ہی خبردار کر دیتا ہے۔
شہری طلباء نے ایک کم قیمت، جدید سمارٹ ڈیوائس تیار کی ہے جو دل کے دورے سے پہلے ہی انتباہ کرتی ہے۔
کارڈیو وٹ نامی یہ ڈیوائس صرف اس وقت خبردار کرتی ہے جب دل کی دھڑکن غیر معمولی ہو، آکسیجن کی سطح خطرناک حد تک کم ہو، دل کی دھڑکن بہت تیز یا بہت سست ہو، جسم کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی ہو اور ٹھنڈے پسینے جیسی علامات بیک وقت ظاہر ہوں۔ جب یہ تمام علامات ایک ہی وقت میں خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہیں، تو یہ آلہ فوری طور پر ایک بزر اور الارم کے ذریعے مریض کو خبردار کرتا ہے کہ وہ فوری طور پر ہسپتال جا کر مکمل طبی معائنہ کرائیں۔
جامعہ کراچی کی فیکلٹی آف فارمیسی اینڈ فارماسیوٹیکل سائنسز کے ایک طالب علم اور پراجیکٹ ٹیم لیڈر عبدالحنان ظفر نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ڈیوائس صرف ایک علامت پر وارننگ نہیں دیتی بلکہ صرف اس صورت میں جب تمام خطرناک علامات ایک ساتھ موجود ہوں۔ یہ ڈیوائس ایک مائیکرو کنٹرولر کا استعمال کرتی ہے جو غیر ضروری یا غلط الارم سے بچنے کے لیے ایک مخصوص الگورتھم کے ذریعے مختلف سینسرز سے موصول ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس میں لیتھیم آئن بیٹری، گرافک سسٹم، دل کی دھڑکن اور آکسیجن لیول کے لیے MAX30102، ECG کے لیے AD8232، جسم کے درجہ حرارت کے لیے LM35 اور پسینے کا پتہ لگانے کے لیے ایک خصوصی سینسر نصب ہے، جب کہ تمام معلومات OLED اسکرین پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
طالبہ مریحہ سلیم نے کہا کہ یہ پاکستان میں ہم نے پہلی ڈیوائس بنائی ہے۔ سمارٹ گھڑیاں صرف دل کی دھڑکن یا آکسیجن کی سطح کو الگ سے مانیٹر کرتی ہیں اور کسی ممکنہ ہارٹ اٹیک کی نشاندہی نہیں کرتی ہیں، جبکہ کارڈیووٹ مختلف علامات کو ایک ساتھ دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر الرٹ جاری کرتا ہے۔
ٹیم کی رکن ہانیہ جمال کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان اور گردونواح کے کئی افراد کو دل کا دورہ پڑا اور کئی بار دیکھا گیا کہ مریض دیر سے اسپتال پہنچا۔ ڈاکٹر اکثر کہتے ہیں، “آپ نے بہت دیر کر دی ہے،” جس کی بنیادی وجہ دل کے دورے کی علامات کے بارے میں عوام میں شعور کی کمی ہے۔ عام آدمی کو سمجھ نہیں آتی کہ دل کی دھڑکن تیز کیوں ہو رہی ہے، ٹھنڈے پسینہ کیوں آرہا ہے، آکسیجن کی سطح کیوں کم ہو رہی ہے، یا دل کی دھڑکن بے ترتیب کیوں ہو گئی ہے۔ یہ تاخیر دل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ ایک بار دل کو نقصان پہنچانے کے بعد اسے مکمل طور پر بحال کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کارڈیو وٹ نامی یہ ڈیوائس تیار کی گئی ہے جو کہ دل کے دورے کی تشخیص نہیں کرتی لیکن ’ممکنہ ہارٹ اٹیک‘ کی صورت میں مریض کو خبردار کرتی ہے۔
ٹیم کے رکن طالب علم عبداللہ فہیم کے مطابق مستقبل میں اس ڈیوائس میں مصنوعی ذہانت کا اضافہ کیا جائے گا، جس کے ذریعے اسے مزید اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ یہ ڈیوائس ڈیڑھ ماہ کی محنت کے بعد صرف 8 سے 10 ہزار کی لاگت سے بنائی گئی۔ اس ڈیوائس کو خاص طور پر کم وسائل والے علاقوں کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ ہسپتال کے مہنگے مانیٹر کا متبادل فراہم کیا جا سکے۔ اگلے مرحلے میں اس پر مزید تحقیق، سروے اور کلینیکل ٹرائلز کیے جائیں گے۔
بینش اصغر نے کہا کہ اس ڈیوائس کا مقصد کسی بیماری کی حتمی تشخیص کرنا نہیں ہے بلکہ مریض کو بروقت خبردار کرنا ہے تاکہ وہ ڈاکٹر سے رجوع کر کے دوا حاصل کر سکے اور ہارٹ اٹیک جیسے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکے۔
ہاجرہ فہیم نے کہا کہ اگر حکومتی سطح پر تعاون ہو تو اسے کم قیمت پر بڑے پیمانے پر تیار کیا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مریض اس سے مستفید ہو سکیں۔
ٹیم کی رکن حمنا ریحان کے مطابق یہ پروجیکٹ کراچی یونیورسٹی فارمیسی سائنس کلب کے زیر اہتمام سالانہ تعلیمی منصوبوں کے حصے کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جہاں طلباء کو ہر سال ایک منفرد اور نئے آئیڈیا پر کام کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے صحت کے موجودہ مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ڈیوائس پر کام کیا، جس کے لیے ہمیں انعام بھی ملا۔
اس سمارٹ ڈیوائس کا نام دیا گیا ہے، جو نہ صرف مریض کو بروقت خبردار کرتا ہے بلکہ ہارٹ اٹیک سے قبل ظاہر ہونے والی ابتدائی مگر خطرناک علامات کو پہچان کر دل کے دورے کی تشخیص بھی کرتا ہے۔ دل کی نگرانی کرنے والا آلہ بیک وقت متعدد بایومیڈیکل سگنلز جیسے دل کی دھڑکن، آکسیجن کی سطح، جسم کا درجہ حرارت، پسینہ اور ای سی جی کی بھی نگرانی کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:عائزہ خان اور دانش تیمور کا روحانی سفر،عمرہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل


