(اوصاف نیوز)صدر مملکت کی زیر صدارت اہم اجلاس میں حکومت نے صوبوں کی مخالفت پر ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ملاقات کی جس میں اہم قومی امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، سابق وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی شریک تھے جبکہ قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے بھی شرکت کی۔
ملاقات کے دوران قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جبکہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور اس کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا،اس موقع پر معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز پر بھی مشاورت کی گئی اور قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانے کے ساتھ ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔
اجلاس کو چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں کی جانب سے قیمتوں کے دباؤ کو کنٹرول کرنے، ضروری اشیا کی دستیابی یقینی بنانے اور عوام پر اثرات کو کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، تاکہ ایک مربوط قومی حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
اس کے علاوہ اجلاس میں وسیع علاقائی صورتحال اور اس کے پاکستان کی سلامتی، اقتصادی منظرنامے اور خوراک کی حفاظت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو یقین دلایا گیا کہ عالمی بحران کے باوجود ایندھن کی فراہمی میں کوئی خلل نہیں آیا، اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے موجودہ ایندھن کے ذخائر کافی ہیں، جبکہ مستقبل کے لیے بھی انتظامات جاری ہیں۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اجلاس کو حکومت کی فعال سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا، جس میں ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت کے ساتھ حالیہ رابطے اور تنازع میں شامل دیگر ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے آئندہ دورہ بیجنگ کی تفصیلات بھی اجلاس میں پیش کیں۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی تجاویز بار بار وزیرِ اعظم نے مسترد کیں، اور کفایت شعاری کے اقدامات سے بچت شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ یہ کفایت شعاری حکومت کے اپنے اخراجات میں کمی سے شروع ہوئی، جس میں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر گراؤنڈ کرنا شامل ہے۔
صدر نے دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ اقتصادی طور پر کمزور افراد اس مشکل وقت میں اکیلے نہیں چھوڑے جائیں گے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ اقتصادی منصوبہ بندی، توانائی کی حکمت عملی، خوراک کی حفاظت اور سیکیورٹی کی تیاری میں ہم آہنگی کے ساتھ فیصلہ سازی کی جائے۔
صدر نے عوامی آگاہی کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں ایندھن کی بچت، عوامی نقل و حمل کے استعمال کی ترغیب اور مشترکہ سفر کے طریقوں کو فروغ دینا شامل ہے۔
حکومت نے صوبوں کی مخالفت پر ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاون لگانے کا فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ صوبوں کی رائے اس پر مختلف تھی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کو امن کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ مسلم دنیا بحران میں ہمیشہ پاکستان کی طرف دیکھتی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جنگ میں کسی کا حصہ نہیں بنیں گے، قومی اور عالمی بحران پر اجلاس بلایا گیا اور ہم نے پاکستان کے لئے اجلاس میں شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم کبھی ایسسے کسی فیصلے کا حصہ نہیں بننے جو عوام پر بوجھ بنے، ہمیں 1375 ارب سے زیادہ این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا جارہا جبکہ فاٹا کے لوگوں کا حق دوسرے صوبے کھارہے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکا کے ساتھ جنگ بندی پر ایران کی پاکستان سے اہم درخواست،اہم خبر
