تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت میں بہتری آرہی ہے اور وہ فضائی حملے میں زخمی ہونے کے بعد تیزی سے صحت یاب ہو رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای حملے کے بعد سے عوامی منظر نامے سے غائب ہیں جب کہ ان کی سیکیورٹی غیر معمولی حد تک سخت کردی گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ حملے کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای کے چہرے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں جس کے باعث انہیں فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وہ اس وقت مکمل آرام کر رہے ہیں اور جدید الیکٹرانک ذرائع استعمال کرنے سے بھی گریز کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات سے بچنے کے لیے اپنے پیغامات میسنجر کے ذریعے متعلقہ حکام تک پہنچا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا تاہم سیاسی حلقوں میں اس خبر پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ رپورٹس درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کے ایران کی ملکی سیاست اور خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سلامتی سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان مہنگے پیٹرول میں سب سے آگے


