پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جا رہی ہے۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ ہتک عزت بل ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، بل کو نہ تو کمیٹی کو بھیجا گیا اور نہ ہی اس میں ترمیم کی گئی، بل ان لوگوں کی طرف سے آیا جو انہوں نے لگایا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹک ٹوکر وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے خطرناک بن چکی، وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہر برادری کو پریشان کر رکھا ہے، وہ اس بل کے خلاف ہر فورم پر احتجاج کریں گے، پنجاب کے کندھے پر بندوق رکھ کر پورے ملک کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اپوزیشن لیڈر پنجاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہی ہے، اگر پیپلز پارٹی آزادی صحافت کے ساتھ ہے تو بجٹ پاس نہیں ہونے دیںگے۔
مزید پڑھیں: آڈیو لیک کیس، علی امین گنڈا پور پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی ملتوی
اس سے قبل جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق ایڈووکیٹ اور سینئر صحافی اور اینکر پرسن اوریا مقبول جان نے گورنر پنجاب کو خط لکھ کر اس بل کو پاس کیے بغیر اسمبلی میں واپس بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ محترم یہ قانون آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہے، اس قانون کے نفاذ سے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگ گئی جو بنیادی حق کے خلاف ہے، ہتک عزت کا قانون شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق میں بڑی رکاوٹ ہے۔
بعد ازاں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے پنجاب ہتک عزت بل 2024 کو مزید مشاورت اور نظرثانی کے لیے اسمبلی کو واپس بھیجنے کا امکان ظاہر کیا۔ سردار سلیم حیدر نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک بل نہیں دیکھا لیکن جو کچھ سنا ہے اور ملک بھر میں ہونے والے تنازعات سے لگتا ہے کہ بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔





