سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں کمیٹی اراکین نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین فنانس کمیٹی منتخب کر لیا۔ پی ٹی آئی ارکان شبلی فراز اور محسن عزیز نے سلیم مانڈوی والا کے خلاف ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔حکومتی ارکان نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو منتخب کرلیا، سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ پچھلی بار سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں الیکشن ہوا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سے ووٹنگ میں حصہ لینے کی درخواست کی گئی، کمیٹی ہمیشہ اتفاق رائے سے چلائی گئی، کبھی پارٹی بنیادوں پر کمیٹی نہیں چلائی گئی۔سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو چیئرمین کمیٹی کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے کہتی ہوں کہ وہ اپنی کمیٹی سے احتجاج کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں کہ کون سی کمیٹی کس کے ساتھ ہو، اپوزیشن کو ڈکٹیشن نہیں دینی چاہیے، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ ٹریژری بنچ کے سینیٹر کا احتساب نہیں ہو سکتا۔شیری رحمان کے مطابق حکومتی بنچوں کی سینیٹر اس سے قبل بھی فنانس کمیٹی کی چیئرمین رہ چکی ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم اور حساس کمیٹی ہے جس میں اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر نے کہا کہ اس حوالے سے سینیٹ سیکرٹریٹ کو نشانہ نہ بنایا جائے، اپوزیشن احتجاج کی بجائے کمیٹیوں میں فعال پارلیمانی کردار ادا کرے۔شیری رحمان نے کہا کہ بجٹ کے لیے فنانس اور پلاننگ کمیٹیوں کا قیام ضروری ہے، اس وقت پاکستان کو معاشی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: انسانی اسمگلنگ کیس : صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی



