سوات (مانیٹرنگ ڈیسک )سوات کے علاقے مدین میں توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو گزشتہ روز قتل کردیا گیا تھا نیز مشتعل ہجوم نے تھانے کو بھی آگ لگا دی تھی جس کی وجہ سے 8 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات زاہد اللہ خان کے مطابق قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں علاقہ مکینوں نے ملزم کو تشدد کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ مدین پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کیا تو لوگوں نے تھانے کو آگ لگا کر توڑ پھوڑ بھی کی۔مشتعل افراد نے ملزم کو تھانے سے باہر نکال کر جلا دیا۔پولیس کے مطابق ملزم تشدد اور جلنے سے جان کی بازی ہار گیا جب کہ مشتعل مظاہرین کے حملے میں 8 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے۔ سوات میں واقعے کے نوٹس پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے انسپکٹر جنرل پولیس سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور واقعے کی رپورٹ طلب کی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےواقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی۔ اس حوالے سے جب مزید تحقیقات کی گئیں
سوات میں جلایا جانے والاشخص کون تھا ؟
تو اہم ترین چیزوں کا انکشاف ہوا جس مبینہ طور پر اہل علاقہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سلیمان کافی عرصہ سے بیرون ملک گیا ہوا تھا اس حوالے سے اس کی والدہ نے تصدیق کی ہے نیز علاقہ کے لوگوں نے یہ بھی بتایا کہسلمان ذہنی طور پر بھی مائوف تھا اور نشہ وغیرہ بھی کرتا تھا یہ بھی واضح ہے کہ یہ اپنی والدہ سے ایل طویل عرصہ سے دور تھا اس کی ناخلفیوں کی وجہ ہی سے والدہ نے اس کو عرصہ دراز قبل عاق کر دیا تھا۔مبینہ ملزم محمد سلیمان ولد قمر عزیز کی والدہ نے اخبار میں عاق نامے کا اشتہار دیا جس کی عبارت کے مطابق والدہ نے کہا کہ میں نے اپنے حقیقی بیٹے محمد سلیمان ولد قمر عزیز کو باوجہ نافرمانی اپنی ہر قسم کی جائیداد سےعاق کر دیا ہے لہذا اب میرا اس کے ساتھ کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہےآئندہ اس کے کسی قول و فعل اور لین دین کی ذمہ دار نہ ہوںنہ ہو نگی ،المشتہر ، شائستہ پروین زوجہ قمر عزیز ساکن محلہ بلال سٹریٹ پاک پورہ سیالکوٹ، نیز اس کی والدہ نے اپنے ایک ذاتی بیان میں کہا ہے کہ یہ باہر ملک تھا یہ پاکستان آیا اس کی شادی کی یہ لڑائی جھگڑے کرتا رہا ۔ جو حصہ اس کا تھا وہ اس کو دے دیا ہمارے پاس سے ڈیڑھ سال ہوا چلا گیا اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اس کو عاقکر دیا ہے ہم اہل سنت ہیں ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ اس نے کیا کیا ہے کیا نہیں ہمارا اور اس کا تعلق ختم ہو گیا ہے۔
سوات میں جلنے والے ملزم سے ماں کا لاتعلقی کا اظہار، مقدمہ دررج کر لیا گیا۔ سوات میں ہجوم کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں ایک شخص کو ہلاک کرنے کے ایک دن بعد، پولیس نے جمعہ کو واقعے کی ایف آئی آر درج کر لی۔ دریں اثنا، پولیس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق قتل ہونے والے شخص کے اہل خانہ نے ملزم سے عدم دلچسپی اور اس کی مبینہ گستاخی کا اظہار کیا ہے۔ ملزم کے بارے میں جو نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں اس کے مطابق جس کے اس کو ہجوم نے آگ لگا دی تھی۔سوات کے علاقے مدین میں جمعرات کی شب ایک تھانے، ڈی ایس پی آفس اور کم از کم پانچ گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ایک پرتشدد ہجوم نے ملزم کو پولیس کی حراست سے چھین کر مار ڈالا۔ مشتبہ شخص کے بارے میں مزید تفصیلات جمعہ کو سامنے آئیں۔ اس شخص کی شناخت کے نام سے ہوئی ہے جو سیالکوٹ شہر کا رہائشی تھا۔ اس کی عمر 40 سال کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور پولیس کے مطابق وہ 18 جون سے وادی سوات میں مدین کے ایک ہوٹل میں اکیلا رہ رہا تھا ۔سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈاکٹر زاہد اللہ نے بتایا اس کی والدہ نے پولیس کو ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں اس نے خود کو اپنے بیٹے سے الگ کیا، ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد کا انتقال 30 سال قبل ہوا، وہ ملائیشیا میں تھے۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے اس کی شادی کر دی۔ وہ ہم سے لڑا اور پھر ڈیڑھ سال پہلے چلا گیا۔سوات پولیس کے پاس جولائی 2022 میں سیالکوٹ سٹی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کی کاپی بھی موجود ہے۔ ماں کی طرف سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہسلیمان نے اس کے بھائی اور ماں پر لوہے کی سلاخ اور پستول کے بٹ سے حملہ کیا۔ 2022 کی ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ منشیات کا عادی تھا اور گھر والوں کو دھمکیاں دے رہا تھا۔اہل خانہ نے پولیس کو ایک اخباری تراشہ بھی فراہم کیا جس میں ایک اخبار کا اشتہار تھا۔ اس اشتہار میں والدہ نے اس سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ویڈیو میں وہ یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہی ہیں کہ ہم اہلسنت ہیں۔ ہم م ہیں۔ ہم کچھ غلط نہیں کرتے۔ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس نے جو بھی کیا یا نہیں کیا، اس کا ہم سے تعلق ختم ہوگیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ڈی پی اور سوات ڈاکٹر زاہد اللہ نے بتایا کہیہ 18 جون سے ہوٹل میں مقیم تھا، گزشتہ شام اس کے کمرے میں مبینہ طور پر کچھ چیزیں دیکھی گئیں جنہیں توہین مذہب کا حصہ سمجھا گیا اور جلد ہی یہ بات پورے علاقے میں پھیل گئی اور پولیس کو بھی واقعہ کی اطلاع دی گئی۔ڈی پی او کے مطابق پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو لوگ نامی شخص کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے۔ پولیس نے مبینہ ملزم کو حراست میں لے کرتھانے کی طرف آنا شروع کر دیا۔ پولیس کو تھانے لے گئی اور اس سے ڈائری لکھنے کے لیے پوچھ گچھ شروع کردی، لیکن اس وقت تک علاقے کے مشتعل لوگوں نے تھانے پر حملہ کردیا۔ڈاکٹر زاہد اللہ نے بتایا کہ ایس ایچ او سمیت تمام اہلکاروں نے کو بچانے کی پوری کوشش کی لیکن مشتعل ہجوم نے فائرنگ کر کے تھانے کو آگ لگا دی اور ملزم کو لے جا کر جلا دیا۔ڈی پی او کے مطابق اس واقعے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 مقامی افراد زخمی بھی ہوئے اور مدین واقعے میں ایک پولیس موبائل، دو سرکاری موٹر سائیکلیں، ڈی ایس پی کی ذاتی جیپ سمیت دیگر اہلکاروں کی 5 ذاتی گاڑیاں بھی جل گئیں۔ ڈی ایس پی کے دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔
مزیدپڑھیں :سوات میں جلائے گئے ملزم سے والدہ کا اظہار لاتعلقی، معاملے کی ایف آئی آر درج
