لاہور(نیوز ڈیسک)وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے شرپسند پولیس اہلکاروں پر تشدد کر رہے ہیں، پی ٹی آئی شرپسندوں نے گاڑیوں کو آگ لگائی، بچوں کو استعمال کرنے والے اپنے بچوں کو بھی احتجاج میں لائیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی لوٹ مار کے کیس میں اندر ہیں، بشریٰ بی بی لوگوں کو اکسا رہی ہیں، بشریٰ بی بی آج کون سی شریعت کی باتیں کررہی ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پولیس اہلکار غیر مسلح ہیں، یہ 9 مئی پارٹ ٹو چاہتے ہیں، پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا ہوا ہے، شرپسندی میں ایک اہلکار شہید ہوا اور 5 کی حالت تشویشناک ہے، پولیس کے تقریباً 70 کے قریب اہلکار زخمی ہوچکے ہیں، سرگودھا میں ایف سی اہلکار کی ٹانگ میں گولی ماری گئی ہے، اٹک کٹی پہاڑی پر کانسٹیبل واجد بھی زخمی ہوا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک طرف ریاست پر حملہ کیا ہوا ہے دوسری طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں، علی امین گنڈا پور خود غائب ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ آخری کال مس ہوگئی، اب انہیں آخری کال نہیں کرنی چاہیئے، ان کے کچھ لوگوں نے فرمائشی گرفتاریاں بھی دیں کیونکہ وہ بانی پی ٹی آئی کے بیانیہ کے ساتھ نہیں چل سکتے اس سے اچھا انہیں گرفتار کر لیں۔۔ علیمہ باجی، بشری بی بی اور گنڈا پور سے لڑائی کے بعد احتجاج سے ہی غائب ہو گئیں تھی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب عظممیٰ بخاری نے کہا کہ کل کے انقلاب کے حالات آپ نے پنجاب میں دیکھ لیے، کل قوم نے باقاعدہ دیکھا کہ بشری بی بی ایک گھریلو خاتون ہیں، کل کہہ رہی تھی کہ ہم نے جلدی جلدی جانا ہے اور عمران خان کو چھڑوانا ہے، بشری بی بی کے ہاتھ میں انگھوٹھی کتنے کیرٹ کی تھی لیکن اچھی تھی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پارا چنار میں پچھلے 4 دن میں 80 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، بیلاروس کے سربراہ آج پاکستان پہنچیں گے، پورے پنجاب سے لاہور سمیت 80 کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اس سے بڑی شرمندگی ایک لیڈر کے لئے نہیں ہوسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے مجھے کہا کہ پنجاب کی عوام کا شکریہ ادا کریں، مریم نواز عوامی ریلیف کے منصوبے بنارہی ہیں، مجھے افسوس خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ہے، جب گنڈاپور باہر نکلتے ہیں تو لوگ آتے ہیں، بشری بی بی کی مرتبہ لوگ غائب ہوجاتے ہیں، علیمہ باجی کل سے کہاں غائب ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ پرامن اور پی ٹی آئی 2 الگ الگ چیزیں ہیں، کل پولیس وین کو کھنہ پور میں تباہ کیا گیا، میانوالی انٹرچینج کو کل آگ لگائی گئی، اٹک کے قریب بہت ساری گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، کفن پوش انقلاب بھی ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور بشری بی بی کا ٹرمپ کارڈ بری طرح پٹ گیا، ان کے پنجاب میں 104 ایم پی اے ہیں لیکن کوئی نہیں نکلا، پولیس پر حملے کیے گئے، کیا اس کو پر امن احتجاج کہتے ہیں، غلطی بی بی صاحبہ کی بھی ہے، انہوں نے کہا تھا ویڈیو بنا کر بھیجنا انھوں نے بنا کر بھیج دی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لاہور میں اسکول کھلے ہوئے ہیں ، مارکیٹ چل رہی ہے، پورے پنجاب میں تمام شہر اپنی اپنی روٹین پر چل رہے ہیں، فساد کا قافلہ کے پی کے سے چلا ہے بس۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ پی ٹی آئی لاہور کے صدر کہاں ہیں جو احتجاج کے لیے باہرنکلنا چاہتے تھے، اٹک میں فساد گروپ کے پی سے اسلحہ بردار ہوکر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بشری بی بی سلطانہ ڈاکو ہیں، انہیں سیاست میں خوش آمدید کہتی ہوں ، وہ مذہب کارڈ یا گھریلو کارڈ نہ کھیلیں، بشری بی بی باقاعدہ کنٹینر سے خطاب کرتی دکھائی دیں، انہوں نے پٹھانوں کو اکسایا واپس نہ جائیں ۔
وزیراطلاعات پنجاب عظممیٰ بخاری نے مزید کہا کہ لاہور میں رنگ روڈ کھلا ہوا ہے ، بتی چوک بھی کھول دیاگیا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہکلہ میں مظاہرین کے تشدد سے شہید ہونے والے پولیس کا نسٹیبل کو خراج عقیدت کرتے ہوئے اہل خانہ سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ کانسٹیبل مبشر نے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا بلند رتبہ پایا ہے، تشدد کرنے والے مظاہرین کو قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شہید کانسٹیبل مبشر کے اہل خانہ کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں، ہماری تمام تر ہمدردیاں اہل خانہ کے ساتھ ہیں ، ذمہ دارعناصرکو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کریںگے۔
مزیدپڑھیں:ڈولفن آیان کے بعد خواجہ سراؤں کی نازیبا ویڈیوز وائرل ہونا شروع


