اسلام آباد(ابرار ولی) سینیٹر افنان اللہ کا کہنا تھا عمران خان کی رہائی کا عوامی مفادات سے کوئی تعلق نہیں عمران خان کی رہائی کا فائدہ خود عمران خان کو ہوگا این آر او نہیں دوں یہ کہنے والا آج خود این آر او مانگ رہا ہے پی ٹی آئی نے مزاکرات میں صرف دو مطالبات رکھے جوڈیشل کمیشن بنا دو اور ہمیں چھوڑ دو۔
انُھوں نے کہا اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت جمہوریت نظام کو مستحکم کرنے اور الیکشن کو شفاف بنانے کے حوالے سے پی ٹی آئی نے کوئی بات نہیں کی۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر (اے بی این نیوز) کے سوال سیاست میں مداخلت پر گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا “سال دو ہزار سات میں چارٹر آف ڈیموکریسی کیا تو سال دو ہزار آٹھ میں انے والی حکومت میں عمل دخل کم ہوا اور سال دو ہزار تیرہ میں سیاست میں مداخلت کا عمل اور کم ہوا دو ہزار سترہ میں عمران خان نے ہائبرڈ رجیم بنا کر جمہوریت کا سودہ کیا اوراس کے ذریعے وہ اقتدار میںآئے،عوامی لیڈروں کو اپنا کنڈکٹ ٹھیک کرنا ہو گا”۔
سال دو ہزار چوبیس عوامی سال تھا؟
(اے بی این نیوز)کے اس سوال پر سینیٹر افنان اللہ خان کا کہنا تھا دو ہزار چوبیس الیکشن کی وجہ سے عوامی سال تھا اس ملک میں جہموریت اور عوامی مفادات کا تحفظ ایک جنگ ہے اور ہم اپنا حصہ ڈال رہے ہیں
مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا ن لیگ کی حکومت نے اڑتیس فیصد سے مہنگائی کم کر کے چھ فیصد پر لے آئی اس وقت ملک میں سترہ ملین ڈالر کے فارن ایکسچینج ریزرو موجود ہیں سٹاک مارکیٹ رکارڈ سطح پر ہے”
اُنھوں نے مزید کہا “ملک میں انویسٹمنٹ دوبارہ آرہی ہے جی ڈی پی گروتھ ریٹ ٹھیک سمت میں جارہی ہے کرنٹ اکاؤنٹ سر پلس ہے اس سب سے شرح سود دس فیصد سے نیچے ائے گا تو انڈسٹریاں چلیں گی اور نوکریاں پیدا ہوں گی نئے سال میں ان کے سمرات عوام کو ملنا شروع ہو جائیں گے۔
