اسلام آباد(اوصاف نیوز) اے بی این نیوز کے پروگرام سوال سے آگے میں سینئر رہنما پی ٹی آئی سینیٹر علی ظفرنے کہا کہ دیکھیں یہ بات پہلے بھی ہو چکی ہے پہلے بھی مختلف آفر زآئے تھے معافی مانگ لواس پر گفتگو ہوئی تھی بڑا واضح طور پر عمران خان نے مسترد کر دیا تھاکہا تھا یہ نہیں ہو سکتا معافی کامطلب یہ ہوتاہے کہ آپ اعتراف کریں جرم کا ، وہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش ہوئے تھے وہاں بھی انہوں نے کہا تھا دیکھیں جوبھی مسائل ہیںاگرکسی نے جرم کیا ہے آپ سی سی ٹی وی لے آئیں ایک آزاد کمیشن بیٹھا دیں اس میں جو بھی ملوث ہو گا اس کو سزا بھی دیں ،جس نے کوئی جرم نہیں کیا وہ کیوں معافی مانگے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے کوئی ایسی بات نہیں نظر آتی کہ مذاکرات ہو سکیں اس پےجو طریقہ کار یہ ہے کہ کوئی مذاکرات یا مکالمہ کرنا ہے کہ پہلے آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ نے غلط مقدمے بنائیں ہیں آپ سیاسی قیدیوں کو چھوڑیں اور ماحول بنائیں اور اس کے بعد آپ بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک طرف ظلم وستم بھی کرتے رہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی ڈیمانڈ کریں کہ جی بات چیت یامعافی ہوں۔
سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ اس وقت ہماری اور حکومت یا کسی کی ضرورت سے بڑھ کے بات ہے اس وقت قومی ایشو ہے دہشت گردی ، معیشت اورسیلابی صورتحال پر شہریوں کیقیمتی جانیں جا رہی ہیں اور بہت سے بے شمار مسائل ہیں انڈیا کے ساتھ ہماراجنگ کاکراسس چل رہے ہیںکوئی پتہ نہیں آگے چل کےکیا ہوتا ہے ہم نے اپنے آپ کو بہتر بنانا ہےتو یہ سیاسی جو ماحول ہے کشیدگی کا جس میں ایک پارٹی جو ہےوہ دوسری پارٹی پرظلم وستم کر رہی ہے میرا خیال ہے وہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتا ہے اور دیگر مسائل ہیں اس کو بھی حل نہیں کرتا ضرورت میرا خیال ہے کہ ملک وقوم کو ہے۔
پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی نے کہا کہ میری نظر میں آگر آپ حکومت کی طرف دیکھتے ہیں تو پہلے حکومت کایہ فرض ہوگاکہ وہ ایک ماحول ایسا پیدا کریں جس سے آگے بات ہو سکے ۔اس وقت تو بالکل ڈیڈ لاک ہے حکومت کیا کر سکتی ہے سب پہلے سب سے آسان کام جو کہ وہ سیاسی قیدی ہیں جو ورکرز پڑے ہیں احتجاج کرنے پےجولوگ ہیںقومی ، آئینی اور قانونی حق استعمال کر رہے ہیں سارے اظہار رائے کا ان کو پکڑا ہوا ہے ان کو چھوڑیں تو ماحول پیدا ہوتا ہے کہ ہم بات پر غیر قانونی سختیاں ہو رہی ہیں ان کو کم کرےیہ ساری چیزیں ختم کرے تو پھر ہم شاہد آگے چل سکیں ۔دیکھیں ہونے کو یہ ایک دن میں بھی ہوسکتا نہ ہونے کو یہ کہیں نہیں ہو سکتا اس لیے یہ ماحول ہے کہ نہیں ۔
سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہیہ تو یقینی بات ہے کہ حکومت جو ہے وہ پریشان ہے انہوں نے یہ بھی شایدتاثر پیدا ہو رہا ہے پیپلزپارٹی جو ہے وہ اقتدار میں آنا چاہتی ہے یہ والی حکومت جا رہی ہے اس کے قسم کی افواہیں جو ہیں وہ گردش کر رہی ہیں ہوسکتا ہے اور ان کے پیچھےکوئی سچائی بھی ہوں لیکن یقینی طور پر وہ پریشان نظر آتے ہیں پریشانی کی وجہ سے و ہ ایسی گفتگو اور بیانات دے رہے ہیں میری نظر میں ذاتی طور پریہ جو حل ہے اس سارے معاملے کا سیاستدانوں نے ہی پہلےحل نکالنا ہے پھر ہی آگے بات بڑھ سکتی ہےاس کے لیے حکومت جس کے پاس ہے سب سے پہل ان کو کرنی پڑتی ہےپھر ہوسکتا ہے ہم آگے چلیں ضروری یہ ہے کبھی یہ نہیں کہہ سکتاکوئی بھی حتمی طور پرنہیں کہہ سکتاکبھی بھی ڈائی لاگ نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے آگے جا کے مذاکرات ہوں کوئی دروازے کھلیں لیکن اس ماحول میں جو آج کل ہے میرا خیال ہے یا بیان بازی بھی اتنی ہوتی ہے ذاتی طور پر دکھ ہوتا ہے حقیقت میں تشدد ہوتا ہےبہت سارے کیسز ہیں اب آپ کے پروگرام میں کیا ذکر کرنا اس وقت وہ آپ کو بھی پتہ ہے جب تک یہ نہیں نکلیں گے ان چیزوں کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ تالی ہم بجائیں تالی دو ہاتھوں سے بھجتی ہے آپ کسی کوماری جائیں اور دوسرے کو کہیں ہم مار رہے ہیںساتھ ساتھ آپ بات بھی کریں دہشت گردی اور مسائل پر بات کریں وہ ہم اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے اپوزیشن ہیں ہم اس کا بھی فرض ادا کرتے ہیں رہیں گےتنقید اور قومی مفاد کی بات کریں گےہم گفتگو بھی جاری رکھیں گے اور ساتھ ساتھ ہم اپنے اصولوں پر بھی قائم رہیں گے ۔
پارلیمانی لیڈر نے مزیدانہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں عمران خان سے ملوں وہ کوشش کرنے کے باوجود ملاقات نہیں ہو رہی مجھے امید ہے کہ کوئی نہ کوئی جا کے مل لے گا کل کسی کی ملاقات ہوتی ہے بہت ساری چیزیں ہیں جو بتانے والی ہیں اور بہت ساری احکامات جو ہیں لینے والے ہیں پاکستان کی اندروانی سیاست ، قومی مسائل ، فلڈز،بین الاقوامی اور پارلیمنٹری میٹر پر بات کرنے کی ضرورت ہے آگے جا کے کیا حکمت عملی ہونی ہے کیاکوئی تبدیلیاں آرہی ہے ہیں نہیں آرہی اس پے بات کرنی ہے پارٹی کے اندرونی مسائل جو ہیں ان پے بات چیت کرنی ہے ۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ جو بالکل مختلف سمت کی بات ہے ایک طرف حکومت جو بل لے کر آرہی ہے اور سینیٹ میں آرہا ہے وہ انسداد ہشت گردی قانون ہے جو بڑا طاقت ور لیکن متنازعہ قانون ہے اور یہ غیر معمولی حالات میں جم لیا تھا وہ غیر معمولی خطرات سے بچانے کے لیے بہت خطرناک دہشتگردوں کو پکڑنے کے لیے قانون آیاتھا یہ سارا سال قانون کو استعمال کیا جا رہا ہے جو صحافیوں اور سیاسی کارکنوں ، سیاسی مخالفت کیخلاف استعمال کیا جارہا ہے لیکن یہ حکومت کو اس طاقتور قانون میں ترمیم لے کے آرہی ہے کہ آپ تین سے چار ماہ تک آپ کو بند رکھیں ایک ایس ایچ او کے کہنے پے عدالت تک نہ جا سکیں ۔ یہ ایک طرف حکومت یہ کر رہی ہے اور یہ جو آپ کےاورقانون کے تقاضے پورے کرنے ہیں آپ کسی کو نہیں رکھ سکتےبغیر کسی وجہ کے آئین کی خلاف ورزی ہو گی ۔
مزید پڑھیں:کرکٹرز کے2025-26 سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان



