Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پارلیمان میں بحث کے بغیر کوئی ترمیم قابلِ قبول نہیں،اعتزاز احسن

اسلام آباد (اے بی این نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ دونوں ایوانوں کے ارکان کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا اور اس پر مناسب بحث بھی نہیں کی گئی۔

اے بی این نیوزکے پروگرام “ڈی بیٹ ایٹ 8” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ “آج تک پاکستان اور دنیا کی تاریخ میں کوئی ایسی آئینی ترمیم منظور نہیں ہوئی جس پر پارلیمان میں مکمل بحث نہ کی گئی ہو۔” انہوں نے کہا کہ اس بار ترمیم کو بغیر مشاورت کے پیش کیا گیا، اور کئی اراکینِ سینیٹ و اسمبلی کو اس کے مندرجات کا علم ہی نہیں تھا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ “کچھ سینیٹرز اور ایک ایم پی اے نے مجھ سے شکایت کی کہ انہیں مسودہ دکھایا ہی نہیں گیا، اور جب تک آدم نذیر نے ترمیم پیش نہیں کی، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اس میں کیا شامل ہے۔”

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ پارٹی کو اس ترمیم کی حمایت نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ “کل تک ہمیں اس کے متن کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں تھا۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے قانون سازی کے لیے درکار آئینی وقت بھی نہیں لیا، اس لیے تمام جماعتوں کو اپنے مؤقف پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔

عدلیہ کی آزادی سے متعلق سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور ایک نئی “قانونی عدالت” کے قیام سے عدالتی نظام میں تقسیم پیدا ہوگی۔ انہوں نے کہا، “جو اختیارات 26ویں ترمیم میں روکے گئے تھے، اب انہیں 27ویں ترمیم میں شامل کر دیا گیا ہے۔”

اعتزاز احسن نے عدلیہ کے کردار پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “میں ججوں سے اتنا مایوس ہوں کہ اب ان کے دفاع میں نہیں کھڑا ہو سکتا۔ اگر عدالت 26ویں ترمیم کو غیر قانونی قرار دے دیتی تو آج یہ صورتحال پیدا نہ ہوتی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ عدالتی تقسیم اب خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ “سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ معاملہ آئینی نہیں، جبکہ نئی عدالتی عدالت اسے اپنے دائرہ اختیار سے باہر قرار دے رہی ہے۔ اس طرح پانچ سے سات سال اسی بحث میں ضائع ہو جائیں گے کہ فیصلہ کس عدالت نے دینا ہے۔”

آرٹیکل 200 کے تحت ججوں کے تبادلے کے اختیارات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جج کی رضامندی کے اصول کو ختم کر دینا عدلیہ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔ اسی طرح، آرٹیکل 184(3) کے اختیارات عدلیہ سے مکمل طور پر چھین لیے گئے ہیں، جو ایک تشویشناک پیش رفت ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ خود بھی اس صورتحال کی ذمہ دار ہے۔ “سپریم کورٹ نے خود ایسے فیصلے کیے جن سے ججوں کی ساکھ متاثر ہوئی۔ ڈوگر صاحب کو 15ویں نمبر سے چیف جسٹس بنایا گیا، مگر لاہور ہائی کورٹ کے ججوں نے اس پر مؤثر احتجاج نہیں کیا۔”

انہوں نے کہا کہ “اب وقت آ گیا ہے کہ عدلیہ اور سیاسی جماعتیں مل کر نظام کو درست سمت میں لے جائیں، ورنہ آئینی بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔”
مزیدپڑھیں:فولڈ ایبل فون لینے کا سوچ رہے ہیں تو بہترین انتخاب کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں