پنجاب بھر کے نجی تعلیمی اداروں نے ہفتہ وار تعطیلات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں سکول مالکان اور ماہرینِ تعلیم نے جمعہ کی چھٹی ختم کرنے کا مطالبہ سامنے رکھ دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آن لائن کلاسز تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔
نجی سکولوں کے اسٹیک ہولڈرز کے ایک اہم اجلاس میں تعلیمی کارکردگی، نصاب کی تکمیل اور انتظامی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت Qazi Naeem Anjum نے کی، جبکہ اس میں Syed Faisal Gillani، Saleem Awan اور Hassan Minhas سمیت دیگر ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ طلبہ کے بہتر تعلیمی نتائج کے لیے کم از کم 210 دن باقاعدہ کلاس روم میں تدریس ضروری ہے۔ شرکا کا کہنا تھا کہ بار بار تعطیلات اور آن لائن نظام پر انحصار کے باعث نصاب بروقت مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست طلبہ کی کارکردگی پر پڑ رہے ہیں۔
اس موقع پر درسی کتب کی بروقت دستیابی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ شرکا نے کتابوں کی اشاعت میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے کتب وقت پر فراہم کی جائیں تاکہ طلبہ کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔
مزیدپڑھیں:اساتذہ کیلئے ای بائیک اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ
مزید برآں، نجی سکول مالکان نے Board of Intermediate and Secondary Education Lahore سے الحاق کے عمل میں توسیع جلد مکمل کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ماہرینِ تعلیم کا کہنا تھا کہ تعلیمی سیشن کو مؤثر بنانے اور معیار بہتر کرنے کے لیے تعطیلات میں توازن لانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔




