راولاکوٹ،مظفرآباد،میرپور،کھوئی رٹہ (نیوزڈیسک )آزاد کشمیر میں چوتھے روز بھی مکمل شٹر ڈاون، پہیہ جام ہڑتال جاری، شہر قصبے ویران، پولیس کے دستوں کا گشت جاری، راولاکوٹ کے احاطہ عدالت میں راشد حنیف کی نگرانی میں دھرنا جاری ، پولیس کاپرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، مظفرآباد میں پولیس اور مظاہرین میں تصادم،فائرنگ سے سب انسپکٹر عدنان فاروق قریشی شہید ہوگئے .
متعدد مقامات پر جھڑپوں میں درجنوںپولیس اہلکار زخمی، جبکہ زخمی شہریوں کی بڑی تعداد بھی ہسپتال پہنچ گئی. سینکڑوں مظاہرین پولیس نے دھر لیے ، داؤد اعوان ایڈووکیٹ شیخ طائر شوکت میر گل حمید بٹ باسط بزمی فضل بیگ مجتبی بانڈے ظہیر میر کی گرفتاری کے لیے کوشش تیز ،راولاکوٹ میں ہوٹل مالکان نے منگوائی فورسز کو رہائش کھانا چائے اور سگریٹ دینے انکار کر لیا، میرپور سے دوڑ صاف کرنے والی کرین کے ساتھ ریلی روانہ ریلی کا شہر میرپور میں مظاہرہ خواتین میرپور ریلی میں صف اول میں رہی کھوئی رٹہ سے بڑا قافلہ روانہ ہوگیا،
حکومت پنجاب کا ہاکی ٹیم کے لیے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان، صدر، وزیر اعظم کی مبارکباد
آج اتوار کو ڈی چوک میں قافلوں کے استقبال کا فیصلہ شرکاء کو راولاکوٹ آمد پر مفت کھانے کی فراہمی ،شادیوں کو ملتوی کر دیا گیا ،عمر نذیر کشمیری اور سرکردہ راہنماؤں کی گرفتاری کے لیے منصوبہ بندی ، دوسری طرف مقبول بٹ شہید چوک میں ہزاروں افراد نے اجتماعی طور پر حلف دیا ہے کہ وہ کسی صورت کھبی بھی بجلی بلز نہیں جمع کروائیں گے آج بارہ مئی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی طرف غیر مسلح پرامن لانگ مارچ کریں گے جدھر روکا گیا وہاں پر ہی دھرنا دیں گے ابھی گیارہ ماہ میں ساڈھے چار سو کا بجلی بلز بائی کاٹ تحریک سے حکومت آزاد کشمیر کا ریونیو رکا ہے ہم مکمل طور بجلی بلز سے ٹیکسوں کے زریعہ حکومت کی عیاشی روکیں گئے اگر تحریک میں سارے مرد گرفتار کر لیے گئے تو عورتیں بچیاں بچے سڑکوں پر نکل کر اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے
کسی گرفتار ساتھی کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ہفتہ گیارہ مئی سے حسب سابق بھمبر سے لانگ مارچ شروع ہوگا لاک ڈاؤن اور پہیہ جام غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا ڈڈیال کی جرات مند عوام کو خراج تحسین ..
گزشتہ رات سے غیر معینہ مدت کے لیے کشمیر بھر میں لاک ڈاؤن شروع ہوگیا شہر سنسان ہوگئے سڑکیں ویران ہوچلیں تھوراڑ میں بلڈنگ مالکان نے پولیس کو رہائش کے لیے جگہ دینے اور دکان داروں نے سگریٹ تک دینے انکار کر دیا راولپنڈی سے بھی گاڑیوں کی امدورفت نہ ہوسکی مقامی طور بھی گاڑیاں نہ چل سکی آزاد کشمیر میں سول نافرمانی کا خدشہ پولیس اور رینجرز کے ساتھ ایف سی کی بھی گشت آزاد کشمیر بھر میں کرفیو ازاد کشمیر عملی طور سری نگر میں بدل گیا
تعلیمی اداروں میں چھٹیاں کر دی گئیں راولاکوٹ شٹر ڈاون کے باوجود ممبر ایکشن کمیٹی عمرنذیر کشمیری کی قیادت میں ہزاروں افراد کی ریلی نکالی گئی فاتح آزاد کشمیر کیپٹین حسین خان شہید کے آبائی گاؤں سے خاتون کونسلر نوشین کنول ایڈووکیٹ کی قیادت میں گھنٹوں پیدل مسافت طے کر آنے پر ماحول جزباتی ہوگیا گیارہ مئی سے شروع ہونے والے لانگ مارچ کو روکنے کے ردعمل پر عوامی ایکشن کمیٹی نے غیر معینہ مدت تک پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرشروع کروا دی
عوامی ایکشن کمیٹی نے جمعرات کے روز ڈڈیال میں شہریوں پر ایف سی کی طرف سے کیے گئے تشدد دو درجن طالبات کے زخمی ہونے میرپور کوٹلی اور بھبمبر کے علاقوں میں ایکشن کمیٹی کے سرکردہ راہنماؤں کی گرفتاری کے بعد اعلی سطح کے اجلاس کے بعد جمعہ دس مئی سے غیر معینہ مدت کے لیے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اقدام اٹھایا ہے
غیر معینہ مدت کے لیے لاک ڈاؤن پر جعہ کی رات بارہ بجے سے عمل شروع کردیا گیا خفیہ مقام پر اجلاس کے بعد کمیٹی کے رکن عمر نزیر کشمیری نے اعلان کیا کہ پرامن کال کو غیر ریاستی فورسز بلوا کر تشدد کے راستے لگا دیا مگر ہم مودی کی خواہش پوری کرنے کا انوار الحق چودھری اور اس کے تنخواہ داروں کی خواہش کو کسی صورت موقع نہیں دیں گے پر امن تحریک آگے بڑھائیں گے شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال سے ریاستی مشینری جام کر کے رکھ دیں گے
مقررین نے کہا کہ گیارہ ماہ سے لوگ سڑکوں پر ہیں وزیراعظم آزاد کشمیر نے ٹی وی پر آکر ہمارے مطالبات کو اپنے مطالبات قرار دیا آج عمل درآمد کے بجائے ایف سی بلوا کر اپنے ہی لوگوں کو فتح کرنے کی کوشش کی ڈڈیال کا مقبول بٹ شہید چوک گواہ بھی اور ثبوت بھی ہے کہ عوام نے کیا ردعمل دیا آزاد کشمیر کے ہر محلے ہر شہر میں اب لوگ سہولت کاروں اور الہ کاروں کے ساتھ یہی سلوک کریں گے ہماری تحریک کا حکومت پاکستان یا پاکستان کے کسی ادارے سے کوئی تعلق نہیں انوار الحق چودھری اور بعض سیاست دان اس کو الحاق پاکستان کے خلاف تحریک قرار دے کر منافقت نہ کریں یہ خالصتاً عوامی تحریک ہے جس کا مطالبہ آزاد کشمیر کو فری لورڈشیڈنگ زون قرار دلانا آزاد کشمیر کا اپنا نیشنل گریڈ اسٹیشن قائم کروانا آزاد کشمیر کے ہر گھر کو گلگت بلتستان جتنی قیمت پر بجلی اور آٹے کی فراہمی اور حکومتی مراعات یافتہ طبقے سے مراعات واپس کروانا ہے

