Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال پر امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ جاری

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کئی شعبوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جب کہ حکومت نے خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کی شناخت اور سزا دینے کے لیے شاذ و نادر ہی اقدامات کیے، ایچ آر سی پی نے حراستی مراکز میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے واقعات کی اطلاع دی۔

امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بلوچستان میں منحرف افراد کے اغوا، تشدد اور قتل کے واقعات رپورٹ کیے اور حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی جانب سے ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کی۔

غیر قانونی حراست، سیاسی قیدیوں، آزادی اظہار پر سنگین پابندیوں کو بھی امریکی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے جب کہ میڈیا کی آزادی، صحافیوں پر تشدد اور صحافیوں کی بلاجواز گرفتاریوں کو بھی رپورٹ میں شامل کیا گیا ہے۔

 مزید پڑھیں:  وزیر اعظم شہباز شریف ے ایف بی آر کے اعلیٰ عہدے دار کو معطل کر دیا،وجہ جانیں

پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر رپورٹ میں گمشدگیوں، سنسر شپ کے مسائل، توہین رسالت مخالف قوانین، اقلیتوں کے خلاف واقعات اور انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین صحافیوں کو خاص طور پر جنسی تشدد اور ہراساں کرنے کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکی رپورٹ میں جنسی تشدد، جبری کم عمری کی شادیوں، ہم جنس پرستوں کو نشانہ بنانے، خواجہ سراؤں کو مرد قیدیوں کے ساتھ ہراساں کرنے، پرامن اجتماع کی آزادی میں مداخلت اور خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کے 9967 کیسز میں سے 7714 اگست میں جبری کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق حل کر لیے گئے، جبری کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں لاپتہ افراد کے 2253 کیسز زیر التوا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسند تنظیموں اور دیگر غیر ریاستی عناصر کے تشدد کی وجہ سے لاقانونیت میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں سال 2023 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ 2023 کی پہلی سہ ماہی میں کم از کم 386 فوجی اور پولیس افسران شہید ہوئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے سرحد پار حملوں میں کئی لوگ اپنی جانیں بھی گنوا چکے ہیں۔ فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا۔

یہ بھی پڑھیں