Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

پاک افواج دہشتگردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوارہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کے خلاف سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ دہشت گردی جیسی برائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تیار ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے جلتے ہیں، دہشت گردوں کو دبانے کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین استعمال کر کے آپریٹ کر رہی ہے، حالیہ دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، پاکستان نے افغانستان کی عبوری حکومت کی ہر سطح پر مدد کی، لیکن افغانستان کی عبوری حکومت نے ابھی تک وعدوں پر عمل نہیں کیا۔ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔

میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاک فوج کی پہلی ترجیح ملک میں امن و امان کا قیام ہے، دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو دبانے کے لیے ہم کسی بھی حد تک جائیں گے، پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 563,000 سے زائد افغان شہری واپس جا چکے ہیں لیکن لاکھوں افغان شہری اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ دہشت گرد امن و امان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں، پاک افواج دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہیں۔

سانحہ 9 مئی سے متعلق سوال پر جواب دیتے ہوئے میجر جنرل احمد شریف نے کہا کہ 9 مئی صرف افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں، یہ پورے پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے، کسی بھی ملک میں اس کی فوج پر حملہ کرایاجائے، شہیدوں ی علامات کی تضحیک کی جائے، بانی کے گھر کو جلایا جائے، عوام اورفوج میں نفرت پیدا کی جائے یہ جو لوگ کرارہے ہیں اور کررہے ہیں ان کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے، کسی بھی ملک میں ایسا ہو تو وہاں کے نظام انصاف پر سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جزا و سزا کے نظام پر یقین رکھنا ہے ، 9 مئی کو کرنے والے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا دینا پڑے گی، ہم سب نے اپنی آنکھوں سے اس واقعے کو ہوتے دیکھا، ہم سب نے دیکھا کس طریقے سے لوگوں کی ذہن سازی کی گئی، افواج، ان کے لیڈرز، ایجنسیوں اور اداروں کے خلاف لوگوں کے ذہن بنائے گئے، ہم نے دیکھا کس طرح کچھ سیاسی لیڈرز نے چن چن کر بتایاکہ یہاں حملہ کرو، ہم نے دیکھا صرف فوجی تنصیبات پر حملے کرائے گئے جب یہ شواہد اور ساری چیزیں سامنے آئیں تو عوام کا غصہ اور رد عمل بھی آپ نے دیکھا، آپ نے دیکھا عوام کس طرح انتشاری ٹولے سے پیچھے ہٹے، جب کھل کر سامنے آگیا تو پروپیگنڈا شروع کیا گیا یہ فالس فلیگ آپریشن ہے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، جوڈیشل کمیشن تو اس چیز پر بنتا ہے جس پر کوئی ابہام ہو، یہ واقعات تو تاریخ پر ہیں اور آپ کے سامنے ہیں یہ بالکل وضح ہے، یہ بھی واضح ہے کس طرح ذہن سازی کی گئی کس طرح سے اہداف بنائے گئے، اس پر بھی کہا گیا جوڈیشل کمیشن بنادو تاکہ پتا چلایا جائے یہ حملہ ہوا کہ نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص ٹولہ یہ سارے کام کرتا رہے گا تو ایک دن وہ اپنی فوج پر پل پڑے گا، آپ کے سامنے یہ ہوا، جب وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ بولتا جائے آپ اس کے جھوٹ کے آگے سچ نہ بولیں تو وہ ہر طرح کا پروپیگنڈا کرے گا، 9 مئی کی اصل حقیقت ہے کہ سیاسی ٹولہ شے سے یہاں تک پہنچا، اس نے اپنی فوج اور ادارے پر حملہ کردیا، پاکستان کی باشعور عوام 9 مئی کو کھڑے ہوئے، اس ٹولے سے پیچھے ہٹ گئے، اس نے خود کو اس انتشاری ٹولے سے دور کردیا، اس نے اس کی نفی کی اور مذمت کی، جب عوامی ردعمل دیکھا تو دوسرا جھوٹ فالس فلیگ آپریشن کا بولا گیا کہ ہم تو خود مظلوم ہیں، اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس عوام کو اتنا بے وقوف سمجھاجائے، اگر 9 مئی کو کرنے والوں اور کروانے والوں کو قانون کے مطابق سزا نہ دی گئی تو کسی کی جان مال آبرو محفوظ نہیں ہوگی، جزا و سزا پر یقین رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ 9 مئی کے ملزمان کو قانون و آئین کے مطابق سزا دیں اور جلد سے جلد دیں۔

یہ بھی پڑھیں