لاہور (اوصاف نیوز) پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑھتی سموگ نے ایک بار پھر شہریوں کو پریشان کر دیا ہے جس کے بعد تعلیمی اداروں میں جلد چھٹیوں کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی آلودگی پر الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہوا کا معیار مزید خراب ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہر اس وقت شدید سموگ کی لپیٹ میں ہیں۔ آج لاہور کو ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار دیا گیا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 362 کی خطرناک سطح پر پہنچ گیا، یہ سطح انسانی صحت کے لیے خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور سانس کے مریضوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔
گزشتہ سال پنجاب حکومت نے اسی صورتحال کے پیش نظر 3 نومبر سے ایک ہفتے کے لیے اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا تھا جس میں بعد ازاں ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی۔ تاہم اس سال محکمہ تعلیم اور پنجاب حکومت نے سکولوں کو بند کرنے کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی کی شدت میں مزید اضافہ ہوا تو پرائمری لیول کے اسکول چند روز کے لیے بند ہوسکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق خشک موسم اور کم ہواؤں کے باعث سموگ کی شدت میں کمی کے امکانات کم ہیں۔
طبی ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک کا استعمال کریں اور اپنی آنکھوں اور گلے کی حفاظت کریں۔
آلودہ ہوا میں سانس کی بیماریوں، نزلہ زکام، کھانسی اور آنکھوں میں جلن کے کیسز بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے سکول جانے والے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:مریم، کیپٹن (ر) صفدر، رانا ثناء اور دیگر کے خلاف نیب آفس حملہ کیس خارج



