فیصل آباد میں موٹر سائیکل اور سائیکل کے لیے الگ لینز بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے شہر کی بڑی سڑکوں پر مخصوص حصے نشان زد کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ٹریفک کو محفوظ اور منظم بنانا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ شہر میں باقاعدہ طور پر الگ ٹریکس متعارف کروائے جا رہے ہیں۔ شہریوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق لینز کو واضح سفید لائنوں سے نشان زد کیا جا رہا ہے۔ یہ حصے صرف موٹر سائیکل اور سائیکل سواروں کے لیے مخصوص ہوں گے۔
فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سن ۱۹۷۸ کے منصوبے میں بھی ایسے ٹریکس کی تجویز موجود تھی، مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔
ریٹائرڈ چیف انجینئر محمد اصغر کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن اور ہائی وے محکمہ بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن تیار کر رہے ہیں۔ عالمی رہنما اصولوں کے تحت یک طرفہ لین کی کم از کم چوڑائی ڈیڑھ میٹر اور دو طرفہ لین کی ساڑھے تین میٹر ہونی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مصروف سڑکوں پر ٹریفک عملہ بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
ریٹائرڈ انجینئر خالد محمود نے اسے اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق ماضی کی منصوبہ بندی میں روزانہ موٹر سائیکل اور سائیکل استعمال کرنے والے افراد کی ضرورت کو نظر انداز کیا جاتا رہا۔





