Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

کورونا کی دستک: ذہن میں خوف ،خدشات اورسوالوں کابسیرا، کیا پھرہوگا لاک ڈاؤن؟

نئی دہلی (نیوز ڈیسک)کورونا کی دستک کے ساتھ لوگوں کے ذہن میں خوف وخدشات کے ساتھ ساتھ سوال بھی گھرکررہے ہیں۔ کیا پھر سے لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے؟۔ نیا ویرینٹ کتنا خطرناک ہے؟اس کی علامات کیا ہیں؟کیا ماسک لگانا ہوگا؟کیا لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ کیونکہ لوگوں کے ذہنوں میں کورونا کی دوسری لہر کی یاد اب بھی تازہ ہیں۔

2021میں اپریل مئی کے مہینے میں کورونا کی دوسری لہرتباہ کن ثابت کوئی تھی۔ایسے میں لوگوں کے سوال اورخدشات فطری ہیں۔لہذا پہلے کورونا کی موجودہ صورتحال سے واقفیت ضروری ہے۔ ملک میں کورونا کے 257 معاملے سامنے آئے ہیں۔اس لیے گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔کورونا کے نئے معاملوں کے متعلق اندرپرستھ اپولو کے ڈاکٹر جتن آہوجا کا کہنا ہے کہ یہ اومیکرون کا ویرئنٹ ہے۔جسے اومیکرون سب ویرئنٹLF.7 اورNB.1.8کہا جاتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس کی علامات شدید نہیں ہوتیں۔ گلا خراب ہونے،زکام اوربخارکے علامات ظاہر ہونے پر ڈاکٹرسے رجوع کریں اورجانچ کرائیں۔ ڈاکٹر جتن آہوجا نے کہا کہ اس موسم میں اس طرح کے معاملے سامنے آتے ہیں لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ڈاکٹرجتن آہوجا نے بتایا کہ ان کی اوپی ڈی میں گلا خراب ہونے ،سردی،زکام اورکھانسی کی شکایت لے کرمریض آرہے ہیں۔جانچ رپورٹوں میں مریضوں میں کورونا پازیٹو نہیں پایا جارہا ہے جبکہ انفلوئنزا۔ بی کے معاملے جانچ کے بعدسامنے آرہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مکمل علاج کرائیں ۔

نئے معاملوں کے سامنے آنے کے بعد کیا ماسک کی واپسی بھی ہوگی ؟اس سوال پر ڈاکٹرجتن آہوجا نے کہا کہ پہلی بار جب 2020 میں کورونا آیا تھا تب اس کے بارے میں لوگ لاعلم تھے اورنہ ہی اس سے بچنے کے لیے ٹیکہ کاری ہوئی تھی۔اب پورے ملک میں ٹیکہ کاری ہوچکی ہے اورہمارا جسم اس وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ڈاکٹر جتن آہوجا کا کہنا ہے کہ، اب ہر سال انفلوئنزا کی طرح یہ آتا ہے اورایک مدت کے بعدچلا جاتا ہے۔

کورونا کے نئے معاملوں سے دنیا بھرمیں تشویش
لہذا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کورونا پروٹوکول اختیار کریں۔ بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں۔ماسک لگائیں اورسماجی فاصلہ رکھیں۔
مزیدپڑھیں:فیلڈ مارشل کے رینک کے ساتھ آرمی چیف کی تصویر سامنے آگئی

یہ بھی پڑھیں