Search
Close this search box.
جمعه ,12 جون ,2026ء

کیا آپ بھی جعلی سرسوں کا تیل کھاتے ہیں! جانیں اصلی اور نقلی تیل کی پہچان کیسے کریں؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سرسوں کا تیل گھروں میں روزمرہ استعمال کی ایک اہم چیز ہے، جو کھانے سے لے کر جسمانی مالش تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی افادیت کے باعث مارکیٹ میں اس کی طلب بہت زیادہ ہے، لیکن اسی طلب نے ملاوٹ کرنے والوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں جعلی سرسوں کے تیل کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے صارفین کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ملاوٹ شدہ تیل نہ صرف غذائیت سے محروم ہوتا ہے بلکہ جسم میں مختلف مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے، جیسے جلدی انفیکشن، ہاضمے کی خرابی اور الرجی۔

ماہرین کے مطابق سرسوں کے تیل کی اصلیت جانچنے کے لیے چند آسان گھریلو طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:

فریزنگ ٹیسٹ: ایک برتن میں تھوڑا سا تیل نکال کر فریج میں رکھیں۔ اگر چند گھنٹوں بعد تیل میں سفید دھبے یا جماؤ نظر آئے تو یہ ملاوٹ کی علامت ہے۔

بو کی پہچان: خالص سرسوں کے تیل کی بو تیز اور مخصوص ہوتی ہے، جبکہ جعلی تیل میں یہ بو مدھم یا غیر محسوس ہو سکتی ہے۔

گرم کرنے کا طریقہ: اگر تیل کو گرم کرنے پر تیز دھواں نکلے اور بو میں کمی آئے تو یہ خالص ہونے کی نشانی ہے۔ جعلی تیل میں ایسا ردعمل نہیں ہوتا۔

رنگ اور چمک: خالص سرسوں کا تیل ہلکا پیلا یا سنہری رنگ کا ہوتا ہے اور اس میں قدرتی چمک ہوتی ہے۔ اگر رنگ بہت ہلکا یا سفید مائل ہو تو یہ ملاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔

صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تیل خریدتے وقت برانڈ، پیکنگ اور لیبلنگ پر خاص توجہ دیں، اور ممکن ہو تو مستند ذرائع سے ہی خریداری کریں۔ صحت کے تحفظ کے لیے خالص اشیاء کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔

چاہیں تو میں اس موضوع پر ایک سوشل میڈیا پوسٹ یا انفوگرافک بھی تیار کر سکتا ہوں جو عوامی آگاہی کے لیے مؤثر ہو۔
مزیدپڑھیں:جب حسن نے بخار چڑھا دیا ، عفان وحید کی اسکول کی حیران کن کہانی

یہ بھی پڑھیں