ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک )مقابلہ حسن مس یونیورس کے منتظمین نے اس مقابلے میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل کی شرکت کے دعووں کی تردید کی ہے۔
تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھنے کے لیے ‘جانچ پڑتال کا عمل’ شروع کر رہی ہے کہ آیا مملکت کے کسی امیدوار کو حصہ لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔
مزیدپڑھیں :رواں سال کیلئے گندم کی امدادی قیمت 3900 روپے فی من مقرر
مس یونیورس آرگنائزیشن نے کہا کہ اگرچہ سعودی عرب ابھی تک ان ممالک میں شامل نہیں ہے جن کی اس سال مکمل طور پر شرکت کی تصدیق ہوئی ہے ، لیکن فی الحال ہم ایک ممکنہ امیدوار کو فرنچائز سے نوازنے کے لئے کوالیفائی کرنے اور نمائندگی کے لئے قومی ڈائریکٹر مقرر کرنے کے لئے سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہے ہیں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ مملکت میں انتخاب کا عمل نہیں ہوا ہے اور کسی بھی طرح کی شرکت کو اس کی کمیٹی سے منظوری لینی ہوگی۔سعودی ماڈل رومی القحطانی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
