ممبئی(سپورٹس ڈیسک)بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی کرکٹر جمائمہ روڈریگز کو پاکستانی وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کا ‘فی میل ورژن’ کہا جا رہا ہے۔
بھارتی صحافی شوبھنکر مشرا نے اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے جمائمہ کو محمد رضوان کا ‘فی میل ورژن’ کا خطاب ملنے کی وجہ بتائی۔
معاملہ کیا ہے؟
دراصل ہوا کچھ یوں ہے کہ ممبئی کے قدیم ترین کلبز میں سے ایک ‘کھار جم خانہ’ نے حال ہی میں جمائمہ روڈریگز کی رکنیت منسوخ کردی ہے۔
جمائمہ روڈریگز مارچ 2023 میں ممبئی کے کھار جم خانہ کی رکنیت حاصل کرنے والی پہلی خاتون کرکٹر بنی تھیں۔
تاہم اب کلب کے ممبران کا الزام ہے کہ ان کے والد اپنی رکنیت کا استعمال کرتے ہوئے کلب کے احاطے میں تبدیلی مذہب سے متعلق پروگرام کرتے تھے۔
یہ فیصلہ 20 اکتوبر 2024 کو کلب کی سالانہ جنرل باڈی میٹنگ کے دوران کیا گیا، کلب کے ممبران مذہبی اجتماعات کے لیے کلب کا احاطہ استعمال کیے جانے کے بارے میں تشویش کا شکار تھے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انکے والد نے کلب کے صدارتی ہال میں ‘برادر مینوئل منسٹریز’ کے نام سے 18 ماہ کے دوران تقریباً 35 اجتماعات منعقد کیے، جس کی وجہ سے کلب کے کچھ اراکین نے اعتراض کیا جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تقریبات کا مقصد لوگوں کی مذہب تبدیلی تھا۔
کلب کی انتظامی کمیٹی کے ایک رکن شیو ملہوترا نے کہا کہ ہم پورے ملک میں مذہب تبدیلی کے کیسز کے بارے میں سنتے ہیں لیکن یہاں تو یہ ہماری ناک کے نیچے ہو رہا ہے، حالانکہ کھار جم خانہ کے قوانین کے مطابق یہاں کسی بھی مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔
جم خانہ کے سابق صدر نتن گاڈیکر نے بتایا کہ حالیہ کچھ عرصے سے کلب میں ایسی سرگرمیاں ہوتی نظر آرہی تھیں، ان واقعات کے بعد کلب نے جمائمہ روڈریگز کی 3 سالہ رکنیت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جمائمہ روڈریگز پر یہ الزامات ان کے کرکٹ کیریئر میں ایک ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب وہ نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز میں بھارت کی نمائندگی کرنے والی ہیں۔
جمائمہ روڈریگز محمد رضوان کا ‘فی میل ورژن’ کیوں؟
جمائمہ روڈریگز کو محمد رضوان کا ‘فی میل ورژن’ کہنے کی وجہ دراصل محمد رضوان کا ایک پرانا بیان ہے۔
دسمبر 2023 میں پاکستانی کرکٹر محمد رضوان کی آسٹریلیا کے شہر میلبورن کی ایک مسجد میں تقریر کرتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے مطابق میلبورن پہنچنے کے بعد محمد رضوان ایک مسجد میں خطاب کرنے گئے تھے۔
مسجد میں خطاب کے دوران محمد رضوان نے کہا تھا کہ ‘میں مانتا ہوں کہ انسان 2 چیزوں کا برانڈ ایمبیسیڈر ہوتا ہے، اگر کوئی شخص مسلمان ہے تو وہ جہاں بھی جاتا ہے اسلام کی نمائندگی کرتا ہے، دوسرا وہ پاکستان کا بھی برانڈ ایمبیسیڈر ہوتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا کہتے ہیں’۔
اس بیان کے بعد محمد رضوان کو سابق کرکٹر احمد شہزاد سمیت کئی سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور مذہب کی تبلیغ کے بجائے کرکٹ پر دھیان دینے کا مشورہ دیا تھا جبکہ انکے مداحوں نے دنیا بھر میں دین کا پیغام پہنچانے پر ان کی حمایت کی تھی۔



