حیدرآباد(سپورٹس ڈیسک) بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے اب ٹینس سے ریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ لیکن ان کا حالیہ بیان موضوع بحث بن گیا ہے۔ انیشا پڈوکون کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں، ثانیہ مرزا نے اپنے جدوجہد کے دنوں کی ان 45 تاریک راتوں کا انکشاف کیا، جنہیں مشہور شخصیات اکثر چھپاتے ہیں۔ دراصل، ثانیہ مرزا نے اپنے ہائی ۔ فنکشننگ ڈپریشن کے بارے میں بات کی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب انہیں ان کی کلائی پر چوٹ لگی اور انہیں اولمپکس سے دستبردار ہونا پڑا۔ ثانیہ نے وہ 45 دن اپنے کمرے میں قید گزارے۔ ثانیہ مرزا ڈپریشن کا شدید شکار ہو گئی تھیں۔ آج وہ اس واقعے کو یاد کر کے کانپ جاتی ہیں ۔ دپیکا پڈوکون کے بعد ثانیہ مرزا نے بھی ڈپریشن کے بارے میں کھلے دل سے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ زیادہ تر لوگ ڈپریشن کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، لیکن یہ ایک سنگین بیماری ہے جو زندگی کے معیار کو تباہ کر سکتی ہے۔
ثانیہ کی کہانی
ثانیہ مرزا نے 2008 میں انیشا پڈوکون اور ماہر نفسیات ڈاکٹر شیام بھٹ کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا، “میری کلائی بری طرح زخمی ہوئی تھی، مجھے اولمپکس سے دستبردار ہونا پڑا تھا ، مجھے تب نہیں معلوم تھا کہ میں اس کے بعد مزید تین اولمپک کھیلوں گی۔ ویسے بھی، وہ ایک مختلف وقت تھا، جیسے میری زندگی کی کہانی کچھ اور ہی تھی۔ میں اپنے بالوں میں کنگھی بھی نہیں کر سکتی تھی۔ میں اپنی کلائی کو بالکل بھی نہیں ہلا سکتی تھی ۔” ایسا لگتا تھا کہ میرا ٹینس کیریئر وہیں ختم ہو جائے گا۔ میں اس سطح پر پہنچ چکی تھی ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اپنے والدین کے خواب چکنا چور کر دیے ہوں۔ اس وقت، میں نہیں جانتی تھی کہ یہ ڈپریشن تھا۔ ڈیڑھ ماہ تک میں صرف اپنے کمرے میں ہی رہی ۔ میں کسی سے نہ ملنا چاہتی اور نہ ہی دیکھنا چاہتی تھی ۔ والدین سے بھی مشکل سے ہی ملتی تھی۔
یہ میرے لیے ایک خوفناک وقت تھا۔ میں اپنے آپ کو پیار اور شفقت نہیں دے پارہی تھی ۔ تب میں نے محسوس کیا کہ اس تناؤ سے نکلنے کا واحد راستہ ٹینس کورٹ ہے۔ میں سچ میں جب ہی خوش ہوتی تھی جب میں ٹینس کھیل رہی ہوتی تھی۔
ڈپریشن پر کیسے پایا قابو
ثانیہ نے آگے بتایا کہ ٹینس کورٹ ان کی دوا بن گیا۔ جب وہ آہستہ آہستہ میدان میں آئیں اور خود کو ذہنی طور پر قبول کر لیا تو وہ اس اندھیرے سے نکل آئیں ۔ ثانیہ مرزا کا یہ پیغام ان لوگوں کے لیے بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے جو اپنے ڈپریشن کو پہچاننے سے قاصر ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی زندگی کئی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
ڈاکٹر شیام بھٹ نے وضاحت کی کہ ڈپریشن ان لوگوں کے لیے مختلف محسوس ہوتا ہے جو کامیابی کے عروج پر ہوتے ہیں۔ “میں اکثر یہ ان لوگوں میں دیکھتا ہوں جنہوں نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کو زندگی میں جو بھی چیلنج درپیش ہیں، چاہے جذباتی ہوں یا دوسری صورت میں، اگر آپ کامیاب ہوتے ہیں تو آپ اس بہاؤ کے ساتھ بہتے ہیں۔ یعنی، آپ کے جذبات کی تشکیل آپ کے کاموں سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کام کرنے والے لوگ اکثر ڈپریشن کو بہت دیر سے پہچانتے ہیں۔
ایکسٹینشیل انیلسٹ اور اور آرگنائزیشنل سائیکولاجسٹ گرلین برؤا نے بتایا کہ بہت سے لوگ ذہنی صحت کے مسائل کے ساتھ جدوجہد کرتے ہیں۔” لیکن ان کی کارکردگی اکثر اس بات کو چھپا لیتی ہے کہ جب کوئی مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، میچ جیت رہا ہے، اور تالیاں وصول کر رہا ہے، تو زندگی کے اندر جھانکنے کی بہت کم گنجائش بچتی ہے ، پھر زندگی ایک طے شدہ روٹین میں بندھ جاتی ہے اور دھیان پوری طرح باہری کامیابیوں پر مرکوز ہوجاتا ہے ،یا پھر اسے ٹال دیا جاتا ہے۔ وقت کے ساتھ دماغ باخبر رہنے کے بجائے خود کو مصروف رکھنا سیکھ لیتا ہے لیکن تب تک درد پہلے سے ہی گہرا ہو چکا ہوتا ہے۔
نیوز18اردو ہندوستان میں اردو کی سب سے بڑی نیوز ویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ برائے مہربانی ہمارے واٹس چینل کو لائیو، تازہ ترین خبروں اور ویڈیوز کے لئے فالو کریں۔آپ ہماری ویب سائٹ پر خبروں، تصاویر اور خیالات کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ، کرکٹ جیسے کھیلوں اور لائف اسٹائل سے منسلک مواد دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں، ایکس، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز،شیئرچیٹ، ڈیلی ہنٹ جیسے ایپس پر بھی فالوکرسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:لیگی رہنما رانا ارشد کے بڑے بھائی انتقال کرگئے



