ایک فون کال۔۔۔۔ اور بدلتی دنیا
اکیسویں صدی کے افق پرجب تاریخ اپنی نئی کروٹ بدل رہی ہے،توطاقت کے ایوانوں میں گونجنے والی سرگوشیاں بھی اب محض رسمی نہیں رہیںوہ تقدیروں کے فیصلے سنانے لگی ہیں ۔واشنگٹن کی راہداریوں سے لے کرتل ابیب کے جنگی کمرہ مشاورت تک، اور تہران کے بنددروازوں کے پیچھے ہونے والی حکمتِ عملیوں تک ہرسمت ایک بے نام سااضطراب تیرتامحسوس ہوتاہے۔یہ