واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے سسٹم میں خامی میں سکیورٹی خامی تلاش کرنے پر پاکستانی سائبر سکیورٹی ماہر محمد ابو بکر کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزاز سے نوازا ہے۔
ناسا نے ایک خط کے ذریعے 23 سالہ وائٹ ہیٹ ہیکر کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے محمد ابو بکر نے بتایا کہ انہوں نے یہ کارنامہ بگ کراؤڈ نامی پلیٹ فارم پر سرانجام دیا جہاں مختلف کمپنیوں کے سسٹمز اور سافٹ ویئرز میں سائبر سیکیورٹی سے متعلق خامی کا پتہ لگا کر ان کی اطلاع دینے پر بدلے میں انعامی رقم یا پھر اعترافی خطوط دیے جاتے ہیں۔
ابوبکر نے بتایا کہ ناسا نے بگ کراؤڈپر اپنے سسٹم کو ٹیسٹ کرنے کے لیے پیش کیا تھا جس میں دنیا بھر سے اب تک 40 کے قریب افراد مختلف خامیوں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی کئی مہینوں کی کوششوں کے نتیجے میں گوگل ڈورکنگ اور مختلف ٹولز کے ذریعے ناسا کے سسٹم میں ایسی خامیوں کی تلاشی کی جس کی مدد سے بلیک ہیٹ ہیکرز کو گیٹ وے مل سکتا تھا اور وہ غیر مجاز معلومات تک رسائی حاصل کرکے ناسا کو کوئی نقصان پہنچاسکتے تھے۔
محمد ابو بکر نے بتایاکہ ناسا نے اپنی اس خامی کو تسلیم کیا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تعریفی خط بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے نامعلوم خطرات کے بارے میں آگاہی دی اور ناسا کی معلومات کو محفوظ بنانے میں ہماری مدد دی۔
بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے 23 سالہ ابو بکر ایک آزادانہ کام کرنے والے سیکیورٹی ریسرچر ہیں جو وائٹ ہیٹ ہیکنگ کے بھی ماہر ہیں۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم بیرون ملک سے حاصل کی ہے اور کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طالب علم رہے ہیں۔
محمد ابوبکر کا تھا کہ انہیں اسکول کے دور سے ہی آئی ٹی میں دلچسپی تھی اس لیے اس شعبے میں مہارت حاصل کر کے فری لانسنگ کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے وائٹ ہیٹ ہیکنگ کرتے ہیں جو اخلاقی ہیکنگ کہلاتی ہے۔
وائٹ ہیٹ ہیکرز ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں جو اخلاقی دائر ے کے اندر رہتے ہوئے اپنی مہارت کے ذریعے سائبر سیکیورٹی کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہیٹ ہیکنگ کے ذریعے پاکستان کے آئی ٹی کے ماہرین دنیا میں اپنے ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں :نوید رضا نے 17 گریڈ کی سرکاری نوکری کیوں چھوڑی؟
