Search
Close this search box.
پیر ,15 جون ,2026ء

حسن نصر اللہ کی موت کے بعد ان کے اکاؤنٹ سے متعدد ٹوئٹ جاری، آخری الفاظ کیا تھے؟

بیروت (انٹرنیشنل ڈیسک )ایرانی حمایت یافتہ لبنانی عسکری تنظیم حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اسرائیلی حملے میں شہید ہو چکے ہیں، حزب اللہ نے شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے حسن نصراللہ کے اکاؤنٹ سے متعدد ٹوئٹس جاری کئے ہیں۔

حسن نصراللہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر سب سے پہلا ٹوئٹ جو پِن کیا گیا ہے اس میں حزب اللہ کے شہید سربراہ کی مسکراتی تصویر کے ساتھ ’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘ لکھا گیا ہے۔

اس کے بعد دوسرے ٹوئٹ میں ان کا 1992 کا ایک بیان شائع کیا گیا، جس میں حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ’ہمارے سیکرٹری جنرل سید عباس موسوی کو قتل کر کے انہوں نے ہماری مزاحمتی روح کو قتل کرنا چاہا۔ لیکن اس کا خون ہماری رگوں میں ابلتا رہے گا، ہمارے عزم کو مضبوط کرے گا اور اس کے راستے پر چلنے کے لیے ہمارے جوش کو تیز کرے گا‘۔

تیسرے ٹوئٹ میں ان کی جوانی کی تصویر کے ساتھ لکھا گیا، ’ہم ذلت سے دور ہیں، الحمد للہ اور شکر خدا کا‘۔

اس کے بعد ایک اور ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’لوگ مر جاتے ہیں لیکن ان کا نظریہ زندہ رہتا ہے۔ حزب اللہ فاتح ہے۔‘

لیکن سب سے اہم ٹوئٹ میں ان کی آخری تقریر میں ادا کئے گئے الفاظ تھے، جس میں انہوں نے کہا کہ ’ہوسکتا ہے میں زیادہ عرصے آپ کے درمیان نہ رہوں، طریقہ کار طے کردیا گیا ہے چاہے ہم سب ختم ہوجائیں جدوجہد ختم نہیں ہوگی، چاہے ہمارے گھرتباہ ہوجائیں ہم مزاحمت کرنا نہیں چھوڑیں گے۔
مزیدپڑھیں :ریکوریاں پوری کرنے کے لیےبند فیکٹریوں، پلازوں اور دکانوں پر بجلیاں گرادی گئیں

یہ بھی پڑھیں