Search
Close this search box.
پیر ,29 جون ,2026ء

امریکا میں صدارتی انتخابات نومبر کے مہینے اور منگل کو ہی کیوں ہوتے ہیں؟جانیں اہم وجوہات

امریکا میں آج 5 نومبر بروز منگل کو صدارتی انتخابات ہورہے ہیں جس میں کروڑوں لوگ حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

انتخابی میدان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدور اور موجودہ نائب صدر کاملا ہیرس کا مقابلہ سابق صدر اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ سے ہوگا۔امریکا میں ہر 4 سال بعد صدارتی الیکشن ہوتے ہیں لیکن انتخابی دن ہمیشہ ایک ہی رکھا جاتا ہے جو نومبر کے مہینے میں آنے والا پہلا منگل ہوتا ہے۔

ہر بار اسی دن انتخابات کے انعقاد کا تعلق امریکا کی سیاسی تاریخ اور شہریوں کے روزمرہ کے معمولات سے ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ’وائس آف امریکا‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی آزادی کے بعد 1788ء میں ہونے والے پہلے صدارتی الیکشن کے بعد 1800ء کی ابتدائی دہائیوں تک مختلف ریاستوں میں 34 دن کے اندر اندر الیکشن ہوتے تھے اور اس کے لیے کوئی ایک دن یا تاریخ مقرر نہیں تھی۔

تاہم اس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے تھے، پالیسی سازوں کو جلد اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ 34 دن کے دورانیے میں جن ریاستوں میں پہلے ووٹنگ ہو جائے گی اس کے نتائج دیگر ریاستوں کی رائے عامہ کو بھی متاثر کریں گے، اس مسئلے کا یہ حل نکالا گیا کہ پورے امریکہ میں صدارتی الیکشن کے لیے ایک دن اور تاریخ متعین کر دیے جائیں۔

اس حوالے سے 1845ء میں وسیع تر مشاورت کے بعد کانگریس نے قانونی سازی کی جس میں ووٹرز کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے نومبر میں آنے والے پہلے منگل کو انتخابات کا دن مقرر کیا گیا۔

منگل کا دن ہی کیوں؟
امریکا میں انیسویں صدی تک شامل ریاستوں کی زیادہ تر آبادی زراعت سے وابستہ تھی، لوگوں کے معمولات بہت سخت تھے،کاشت کار بدھ کو اپنی اجناس اور پیداوار منڈیوں میں فروخت کرنے جاتے تھے جس کی وجہ سے ووٹنگ کے لیے بدھ کا دن مقرر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

امریکا میں اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور یہ دن انتخابی عمل کے لیے مناسب تھا لیکن امریکا میں زیادہ تر آبادی اتوار کے روز چرچ جاتی ہے اور پھر بہت سے ووٹرز پولنگ اسٹیشنز سے دور رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں وقت چاہیے تھا۔

کانگریس نے قانون سازی کے دوران اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹرز کو پولنگ بوتھ تک آنے کے لیے طویل مسافت طے کرنے کا بھی مناسب وقت دیا۔

یہی وجہ تھی کہ منگل کو مناسب ترین دن سمجھا گیا کیوں کہ اس طرح چرچ میں عبادت کے بعد پولنگ اسٹیشن پہنچنے کے لیے بھی مناسب وقت مل گیا اور بدھ کا اہم کاروباری دن بھی متاثر نہیں ہو رہا تھا۔

نومبر ہی کیوں؟
انتخابات کیلئے نومبر کے مہینے کا انتخاب کرتے ہوئے بھی کاشت کاروں کی مصروفیات مدِ نظر رکھی گئیں۔موسمِ بہار اور گرما میں فصل کی بوائی کا موسم ہوتا ہے جبکہ گرمی کے اختتام اور خزاں کے ابتدائی دنوں میں فصلوں کی کٹائی اور پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

نومبر تک فصلوں کی کٹائی کا کام مکمل ہو جاتا ہے اور سردی میں بھی زیادہ شدت نہیں ہوتی اس لیے نومبر کا مہینہ انتخابات کے انعقاد کیلئے سب سے موزوں سمجھا گیا۔

دن تبدیل کرنے کا مطالبہ
دنیا میں کئی ممالک اتوار کو الیکشن منعقد کراتے ہیں لیکن امریکا میں آج بھی منگل ہی کو ‘الیکشن ڈے’ ہوتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب امریکی شہری انتخابی دن کو تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں کیونکہ امریکا میں اب زراعت سے وابستہ خاندان آبادی کا صرف 2 فی صد ہیں جبکہ پپیر سے جمعے تک ورکنگ کلاس کی بڑی آبادی کام کرتی ہے۔

لہٰذا لوگوں کا مطالبہ ہے کہ انتخابات کیلئے چھٹی والا دن مقرر کیا جانا چاہیے، یا پھر ملک بھر میں الیکشن والے دن عام تعطیل ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں