نئی دہلی (نیوزڈیسک) بھارتی کسانوں کی تحریک ایک بار پھر متحرک ، ”دہلی چلو” مارچ کا دوبارہ آغاز ہو گیا۔کسان یونینز اور حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہوگئے،جس کے بعد پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں کی دہلی چلو تحریک آج 6 دسمبر سے دوبارہ شروع ہو گئی، ”دہلی چلو مارچ” کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہا ہے۔
ہریانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی مزاحمت کے بعد کسانوں نے ٹریکٹر کی بجائے چھوٹے جتھوں میں دہلی پیدل جانے کا فیصلہ کرلیا، کسانوں کے ”دہلی چلو” مارچ کے پیش نظر دارالحکومت کی سرحدوں اور اس سے متصل پورے علاقے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
کسان رہنما سرون سنگھ پانڈھر کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کسانوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے حالانکہ کسان گزشتہ 10 مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، ہم نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہریانہ پولیس کو آگاہ کیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہوگا۔ سرون سنگھ پانڈھر کا مزید کہنا ہے کہ وزیر مملکت برائے ریلوے روینت سنگھ بٹّو اور ہریانہ کے وزیر زراعت نے کسانوں کو دہلی پیدل جانے کا اشارہ دیا،
ایک شخص نے کروڑوں روپے مالیت کا خزانہ کہاں چھپایا،اپنی کتاب میں نشانیاں بتادیں؟



