Search
Close this search box.
جمعه ,17 جولائی ,2026ء

باغیوں کی پیش قدمی، بشار الاسد کابینہ فرار ہونے کیلئے فوجی بیس پر جمع

دمشق(نیوز ڈیسک)شامی باغیوں کی دارالحکومت دمشق کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری ہے، شامی صدر بشار الاسد کی کابینہ اور بڑی تعداد میں فوجی ایئر بیس میں جمع ہوگئے۔

عرب میڈیا کے مطابق شامی اسٹیک ہولڈرز نے بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کا پلان تیار کرلیا گیا، مجوزہ پلان میں اقتدار کے خاتمے کے بعد عبوری حکومت تشکیل دی جائے گی۔

اس پلان کے تحت عبوری حکومت 9 ماہ کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کرانے کی پابند ہوگی۔

دوسری جانب شام کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل محمد خالد الرحمون نے بیان کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں مسلح باغیوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ دمشق کے گرد انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، کوئی بھی مسلح ملیشیا سیکیورٹی حصار کو توڑ نہیں سکتی۔

ادھرعراقی سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو ہزار کے قریب شامی فوجیوں نے عراق میں پناہ لے لی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اردن اور مصر نے شامی صدر بشار الاسد کو شام چھوڑنے کا مشورہ دے دیا، تاہم شامی صدر نے انکار کر دیا ہے۔

ترک، ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کی دوحا میں ملاقات ہوئی ہے، جس میں شامی حکومت اور باغی گروپوں سے فوری مذکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


شام میں مقامی بغاوتیں شروع ہونے سے صدر بشارالاسد کی اقتدار پر گرفت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔

شام میں بشارالاسد مخالف فورسز نے جنوبی شہر درعا پر قبضہ کر لیا ہے، یہ ایک ہفتے میں شامی حکومتی فورسز کے ہاتھوں کھو جانے والا چوتھا شہر ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج نے ایک معاہدے کے تحت درعا سے دستبرداری پر رضامندی ظاہر کی جس کے تحت فوج کے اہلکاروں کو دمشق کے شمال میں تقریباً 100 کلومیٹر (60 میل) کے فاصلے پر محفوظ راستہ فراہم کیا گیا۔

یہ اطلاعات شمالی شام میں تحریر الشام کی قیادت میں حُمص شہر کے مضافات تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

درعا پر قبضہ اس وقت ہوا جب شامی حکومت مخالف فورسز نے جمعہ کو دیر گئے حُمص کے مضافات تک پہنچنے کا دعویٰ کیا جو کہ دارالحکومت کو بحیرہ روم کے ساحل سے جوڑنے والا اسٹریٹجک شہر ہے۔

ترک،ایرانی،روسی وزرائے خارجہ کی آج ملاقات متوقع

خطے میں رونما ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ترکیہ، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ آج دوحہ میں ملاقات کریں گے۔

عرب میڈیا کے مطابق شام میں باغیوں کی پیش قدمی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، ترکیہ سیاسی اور مسلح اپوزیشن کی حمایت کرتا ہے وہیں روس اور ایران بشارالاسد کے حامی ہیں۔

باغیوں کی حُمص کی جانب پیش قدمی

علاوہ ازیں جنگجوؤں نے ڈیرہ صوبے میں فوجی اڈے پر بھی قبضہ کرلیا جبکہ باغیوں کی حُمص کی جانب پیش قدمی جاری ہے۔ واضح رہے کہ حُمص ایک علاقہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بشار الاسد فورسز خُمص پر حملہ روکنے میں ناکام رہے تو کرد فورسز کا اگلا ہدف دمشق ہوگا۔

موجودہ حالات میں صدر بشار الاسد اور ان کے حامی روس اور ایران کے لیے مزید مشکلات بڑھ رہی ہیں۔

واضح شام کا ایک شہر حلب پہلے ہی باغیوں کے قبضے میں ہے۔ شمال مشرقی علاقے حلب میں موجود بشارالاسد مخالف فورسز تحریر الشام جس کو فری سیرین آرمی بھی کہاجاتا ہے، نے حالیہ دنوں میں تیزی سے پیش قدمی کی اور حما پر قبضہ کرلیا اور اب خُمص کے گرد گھیرا تنگ کررہی ہے۔

حمص اسٹریٹجک اعتبار سے حما اور حلب سے زیادہ اہم ہے

حمص اسٹریٹجک اعتبار سے حما اور حلب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس جے مغرب میں وہ علاقے واقع ہیں جنھیں بشار الاسد کے خاندان کا گڑھ کہا جاتا ہے جبکہ اس کے جنوب میں شامی دارالحکومت دمشق واقع ہے۔

ہیئت تحریر الشام برسوں سے شمال مغربی صوبے ادلب میں اپنی طاقت کو بڑھا رہا تھا اور گذشتہ ہفتوں میں اس کی کامیابیوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ بشار الاسد حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگا۔

دوسری جانب ترک صدر نے کہا کہ مسلح گروپوں کا ہدف دمشق ہے، امید ہے شام میں مسلح گروپوں کی پیش قدمی مشکلات کے بغیر جاری رہے گی۔ رجب طیب اردوان نے شامی ہم منصب صدر بشارالاسد کو ملاقات کی دعوت دی مگر مثبت جواب نہیں ملا۔ دوسری جانب روس نے اپنے شہریوں کو شام چھوڑنے کا حکم دیدیا۔ اسرائیل نے بھی شام سے متصل سرحد پر فوج میں اضافہ کردیا۔

شامی فوج کی تنخواہ میں اضافہ

شام میں حکومتی فورسز کی مسلسل ناکامیوں کی کئی وجوہات سامنے آئی جس میں اہلکاروں کی کم تنخواہیں، کمزورمورال اور اکثر اہلکار فوجی ملازمت چھوڑ کر بھی بھاگ جاتے ہیں۔

جیسے ہی حلب اور حما میں شامی فوج ناکام ہوئی صدر بشار الاسد نے ایک حکمنامے کے ذریعے فوجی اہلکاروں کی تنخواہ میں 50 فیصد اضافہ کردیا۔ لیکن صرف یہ قدم شامی صدر کی کامیابی کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

حما میں شامی فوج کو روسی فضائیہ کی بھی مدد حاصل تھی، تاہم یہ مدد بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔

شام کی کشیدہ صورتحال میں امریکا کا کردار نہیں، ٹرمپ

نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ شام کی کشیدہ صورتحال میں امریکا کا کردار نہیں، امریکا کو شام کے تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے بیان میں کہا کہ شام میں گڑ بڑ ہو رہی ہے لیکن شام ہمارا دوست نہیں، امریکا کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں، یہ ہماری لڑائی نہیں، ہوتی رہے، ہمیں اس میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ شامی باغی درعا اور قنیطرہ شہروں پر قبضے کے بعد حمص شہر میں داخل ہوگئے ہیں، صوبے سویدا میں عمارت پر لگے صدر بشار الاسد کے پورٹریٹ پھاڑ دیے گئے۔

حما شہر میں بشار الاسد کے والد حافظ الاسد کا مجسمہ گرادیا، باغیوں کی دارالحکومت دمشق کی جانب تیزی سے پیش قدمی جاری ہے۔
مزیدپڑھیں:ایک اداکار نے شادی کی منتیں کرکے تھک جانے کے بعد آئمہ بیگ، حمیرا چنا کا نمبر مانگا، شازیہ منظور

یہ بھی پڑھیں