Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی، ان کی رہائی قومی مسئلہ ہے، اسحاق ڈار

نیویارک(نیوز ڈیسک)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ’پاکستان کی بیٹی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کو ایک ’قومی مسئلہ‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے مخلصانہ اور مسلسل سفارتی کوششیں کی ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی راستہ اپنایا، یہاں تک کہ صدر جو بائیڈن کی مدتِ صدارت ختم ہونے سے قبل ان کے لیے معافی کی درخواست بھی دی۔

اسحاق ڈار نے ڈاکٹر عافیہ کے معاملے کو انسانی ہمدردی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مسلسل یہ معاملہ واشنگٹن کے ساتھ اٹھاتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز عافیہ صدیقی سے متعلق نائب وزیر اعظم کا ایک متنازع بیان سامنے آیا تھا، جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر اسحاق ڈار کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس تنقید کے بعد ہی اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرے گزشتہ روز اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک واشنگٹن میں عمران خان کے کیس سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کا حوالہ سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں ہم نے ہمیشہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے تمام تر سفارتی اور عدالتی معاونت فراہم کی ہے، اور آئندہ بھی یہ کوششیں جاری رہیں گی جب تک کہ ان کی رہائی کا معاملہ حل نہیں ہو جاتا۔

اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ہر ملک کا اپنا عدالتی و قانونی طریقہ کار ہوتا ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے، چاہے وہ پاکستان ہو یا امریکا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر ہماری حکومت کا مؤقف دو ٹوک اور واضح ہے۔

یاد رہے کہ امریکا میں اٹلانٹک کونسل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ پاکستان میں منصفانہ قانونی عمل اس وقت بھی جاری ہے، اس کیس کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے، جس طرح عافیہ صدیقی کئی عشروں سے امریکا میں قید ہیں اور یہ کہنا ممکن نہیں کہ وہ کب تک قید رہیں گی، اس پر یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ منصفانہ قانونی عمل اختیار نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر یہ قید جائز قانونی عمل کا نتیجہ ہے تو پھر قانونی عمل کی یہی تشریح ہر جگہ لاگو ہونی چاہیے۔

عمران خان نے ضمانت منسوخی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

یہ بھی پڑھیں