بہار(اوصاف نیوز)بھارتی ریاست بہار میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران جعلی درخواستوں کا ایسا سلسلہ سامنے آیا ہے جس نے حکومتی نظام پر کئی سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔ حالیہ حیران کن واقعے میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق یہ درخواست 29 جولائی کو ایک شخص نے آن لائن جمع کرائی جس میں اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے والدین کے اصل نام فریڈرک کرسٹ ٹرمپ اور میری این میکلیوڈ شامل کیے جبکہ پتہ ضلع سمستی پور کے گاؤں حسن پور درج کیا گیا۔ اور تو اور اس نے ساتھ ہی درخواست میں ٹرمپ کی تصویر بھی لگا دی گئی۔
ضلع سمستی پور کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ برجیش کمار نے تصدیق کی کہ یہ سرٹیفکیٹ جعل سازی کے ذریعے بنایا گیا تاہم متعلقہ ریونیو اہلکار نے 4 اگست کو یہ درخواست مسترد کر دی۔ حکام نے اس جعلی کارروائی کی جانچ شروع کر دی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
جعلی سرٹیفکیٹس کا مذاق یا مزاحمت؟
یہ واقعہ بہار میں چل رہے خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) پروگرام کے دوران سامنے آیا ہے جس میں ووٹر لسٹ کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس دوران کئی جعلی اور غیرمعمولی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں ’ڈاگ بابو‘، ’ڈوگیش بابو‘، ’نتیش کماری‘ اور ’سونالیکا ٹریکٹر‘ جیسے فرضی نام شامل ہیں۔
دریں اثنا جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے مقامی صحافی محمد سمیع احمد نے بتایا کہ سرکاری دستاویزات کے پیچیدہ نظام کے باعث عوام کو مشکلات درپیش ہیں اور بعض لوگ جعلی درخواستوں کے ذریعے سسٹم کی خامیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ حکومت کی توجہ اس طرف دلانا چاہتے ہیں کہ بہار میں رہائشی سرٹیفکیٹ حاصل کرنا مذاق بن چکا ہے۔
Only in Bihar a residence certificate is issued in the name of “Dog babu” with father’s name as “Kutta babu” pic.twitter.com/NRcO8pjXjU
— Marya Shakil (@maryashakil) July 28, 2025
یہ پہلا واقعہ نہیں
ڈونلڈ ٹرمپ والا واقعہ پہلا نہیں۔ جون 2024 میں پٹنہ میں ’ڈاگ بابو‘ نامی کتے کیلئے باقاعدہ سرکاری سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا۔
نوادہ میں ’ڈوگیش بابو‘ نامی ایک اور کتے کی درخواست آئی۔ مشرقی چمپارن میں ’سونالیکا ٹریکٹر‘ کے نام پر بھی درخواست دی گئی جس کے ساتھ ایک فلمی اداکارہ کی تصویر لگی تھی۔
محمد سمیع احمد کے مطابق ڈاگ بابو والے واقعے میں ایک سرکاری ملازم ملوث تھا جسے بعد میں سزا دی گئی۔ دیگر درخواستیں اہلکاروں نے بروقت مسترد کردی تھیں۔
ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی اہمیت اور تنازع
بہار میں آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کی نظرثانی سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے۔ انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے رہائشی سرٹیفکیٹ اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے حصول کا عمل پیچیدہ اور مشکوک بنتا جا رہا ہے۔
الیکشن کمیشن نے آدھار کارڈ (شناختی کارڈ)، راشن کارڈ اور ووٹر کارڈ جیسے عام دستاویزات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے جس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
محمد سمیع احمد نے نشاندہی کی کہ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بنانے کے لیے آدھار کارڈ مانگا جاتا ہے لیکن ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے اسی آدھار کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔
Trump is now resident of Bihar, name in the voter list.
While Tejasvi Yadav’s name was out of the voter list .
Bihar SIR Scam is gone next level .
ECI= BJP#VoteChori #SIRScam pic.twitter.com/KtPfiERjsK— Priyamwada (@PriaINC) August 6, 2025
اس معاملے نے سیاسی میدان میں بھی طوفان برپا کر دیا ہے۔ کانگریس رہنما رندیپ سنگھ سرجے والا نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں کہا کہ بہت سے لوگ ٹرمپ والے واقعے پر ہنسیں گے مگر یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بہار میں ووٹرز کی فہرست کا جائزہ ایک بڑا فراڈ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 65 لاکھ ووٹروں کو لسٹ سے نکالنا جمہوریت پر حملہ ہے اور اس کے خلاف عوام کو آواز بلند کرنی چاہیے۔
عدالتی حکم
سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان 65 لاکھ ووٹروں کی تفصیلات پیش کرے جنہیں ووٹر لسٹ سے خارج کیا گیا۔
عدالت نے 9 اگست تک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت دی ہے اور سماعت 12 اگست کو ہو گی۔درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر ووٹر کا اخراج کیوں ہوا اس کی مکمل وضاحت پیش کی جائے۔
حضرت بری امام سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا سالانہ تین روزہ عرس شروع
