Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

حماس رہنماؤں پر اسرائیلی حملے کا دعویٰ، قطر خطے کی کشیدگی کا نیا مرکز

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بے چینی کا شکار ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والی اطلاعات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حماس قیادت پر حملے کی خبر، لیکن رہنما محفوظ

بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے قطر میں موجود حماس کے اعلیٰ رہنماؤں پر میزائل حملہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیلی دعوے کے مطابق نشانہ بننے والوں میں خالد مشعل، خلیل الحیا اور اسماعیل درویش جیسے اہم نام شامل تھے۔ تاہم چند گھنٹے بعد قطر اور حماس کے ذرائع نے تصدیق کی کہ مذکورہ رہنما محفوظ اور زندہ ہیں۔ اس تضاد کے بعد اسرائیلی دعویٰ عالمی سطح پر مشکوک اور ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

یمن پر میزائل حملے، کشیدگی میں اضافہ

قطر کے معاملے کے ساتھ ہی اسرائیل نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر بھی میزائل حملے کیے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن ایک نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے اور ہر نیا واقعہ کشیدگی کو کئی گنا بڑھا رہا ہے۔

قطر کی اسٹریٹیجک اہمیت

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قطر اس وقت عرب دنیا میں ایک دوہرا کردار ادا کر رہا ہے:

رائے عامہ پر اثر — الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے، جو دنیا بھر میں اثر انداز ہوتا ہے۔

فوجی مرکزیت — امریکی سینٹ کام کا سب سے بڑا فارورڈ بیس الدیِد قطر میں واقع ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بحرین میں امریکی پانچواں بحری بیڑہ موجود ہے۔

امریکی فوجی موجودگی (محکمہ دفاع کی تفصیلات)

شام: 2000 فوجی

عراق: 2500 فوجی

کویت: 13,500 فوجی

بحرین: 9000 فوجی

سعودی عرب: 2700 فوجی

قطر (العدیِد): 10,000 فوجی

یہ بڑی فوجی موجودگی امریکہ کو خطے کی سیاست اور سلامتی پر براہ راست اثرانداز ہونے کا اختیار دیتی ہے۔

عالمی میڈیا کا ردعمل

وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹس میں لکھا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ اقدامات نے نہ صرف خطے میں بے یقینی کو جنم دیا ہے بلکہ قطر اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ امریکی تعلقات کو بھی مشکل صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایک موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں صدر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

“قطر پر ہونے والا حملہ میری مرضی کے بغیر ہوا۔”

انسانی پہلو: خوف اور بے چینی

قطر میں مقیم شہریوں کے مطابق گزشتہ رات اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد دارالحکومت دوحہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بعض رہائشیوں نے کہا کہ “ہمارے لیے یہ محض ایک فوجی تنازعہ نہیں، بلکہ روز مرہ زندگی کا سوال ہے۔ جب بھی حملوں کی خبریں آتی ہیں، سب سے پہلے ذہن میں اپنے بچوں اور گھروں کا خیال آتا ہے۔”
مزیدپڑھیں:سیکنڈری اسکول ٹیچر (گریڈ 16) کے آفر لیٹر سے متعلق اہم اعلان

یہ بھی پڑھیں