نئی دہلی(نیوز ڈیسک)مودی سرکار اپنے سپاہیوں کے لیے موذی حکومت بن گئی ہے۔ بھارت کی ریاست بہار میں متعدد فوجی اہلکار بھارتی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
11 سمبر سے شروع ہونے والے احتجاج میں بھارتی آرمی کے اہلکار ضروریات پوری نہ ہونے اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں نکلے ہوئے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں میں سابق اور حاضر سروس فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین آرمی کے اہلکاروں نے ضروریات پوری نہ ہونے اور مراعات نہ ملنے پر ریاست بہار کے مختلف شہروں میں احتجاج کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسر سونو سنگھ شودر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھارتی فوج کے احتجاج کی ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ہم 8 دن سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں مگر حکومت کا کوئی بھی نمائندہ ہمیں سننے نہیں آیا ہے۔
ایک اور بھارتی فوج کے اہلکار کا کہنا تھا کہ بھارتی فوجیوں کا کہنا تھا ہم مودی سرکار اور ریاست بہار کے حکمرانوں سے بارہا اپنی ضروریات اور مراعات کے لیے درخواستیں دے چکے لیکن جب سرکار کی طرف سے سنوائی نہ ہوئی تو ہم نے سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
मोदी सरकार और बिहार की नीतीश सरकार के खौफ इंडियन आर्मी ने कर दिया बड़ा आंदोलन। pic.twitter.com/apyQcXzlgm
— Sonu Singh Shudr (@SonuSinghShudr) September 10, 2025
ایک بھارتی صارف نے احتجاج کے حوالے سے ویڈیو شئیر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ مودی سرکار بھارتی فوج کی عزت کرتی ہے تو آج ملکی فوج حکومت کے خلاف نعرے کیوں لگا رہی ہے؟ فوجیوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ جہاں الیکشن ہوتے ہیں وہاں صرف سماعت کی امید ہوتی ہے۔
अगर मोदी सरकार मेँ भारतीयों सेना का सम्मान है तो फिर देश की सेना आज सरकार के खिलाफ नारा क्यों लगा रहे है, सैनिक भी जानती है जहाँ चुनाव हो, सुनवाई की सिर्फ वही उम्मीद!#Bihar #VoteChorGaddiChhod pic.twitter.com/bwqZzAlUFi
— Gurudev Mishra (GDM)® (@inc_gdm) September 11, 2025
بھارتی شہر پٹنہ میں احتجاج کرتے ہوئے انڈین فوجی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ پورے ملک میں پھیلا دیں گے۔
مزیدپڑھیں:اغوا کیس کا ڈراپ سین: ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کا سابق منگیتر حسن زاہد کیخلاف مقدمات واپس لینے کا اعلان