تہران (ویب ڈیسک)ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا 2015 میں کیا گیا 10 سالہ ایٹمی معاہدہ اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اب ایران کسی کا پابند نہیں رہا۔
تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ 2015 میں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) معاہدے کی تمام شرائط ہفتے کے روز ختم ہو چکی ہیں۔ اس معاہدے میں ایران، امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین شامل تھے۔
اس 10 سالہ معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کا وعدہ کیا تھا جبکہ دنیا نے ایران پر عائد بین الاقوامی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی تھیں تاکہ ایران کی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔تاہم، 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نکلنے کا اعلان کیا تھا
جس کے بعد ایران اور دیگر فریقین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔اب جبکہ یہ معاہدہ ختم ہو چکا ہے، ایران کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی جوہری سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری رکھے گا لیکن وہ سفارتی راستے بند نہیں کر رہا اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھے گا۔یہ پیش رفت خطے اور عالمی برادری کے لیے اہم چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر عالمی طاقتیں اور ایران کے درمیان تعلقات کے حوالے سے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو آئی ایم ایف سےقرض کی اگلی قسط کب ملے گی ، وزیر خزانہ نے تفصیلات بتا دیں


