انڈیا(ویب ڈیسک)بھارتی ریاست گجرات میں ایک ایسا غیر معمولی طبی واقعہ پیش آیا جس نے ماہرینِ چشم سمیت پورے ملک میں حیرت پھیلا دی۔
امریلی ضلع کے شہر ساورکنڈلا کے ایک مقامی اسپتال میں 66 سالہ خاتون گیتابین نے آنکھوں میں مسلسل خارش، درد اور جلن کی شکایت کے باعث ڈاکٹر مرگانک پٹیل سے رجوع کیا، تاہم معائنے کے دوران جو منظر سامنے آیا، اس نے خود ماہرِ چشم کو بھی ششدر کر دیا۔
ڈاکٹر پٹیل کے مطابق مریضہ کی پلکوں میں مجموعی طور پر 250 زندہ جوئیں اور ان کے 85 انڈے پائے گئے۔ یہ عمل نہایت صبر آزما اور نازک تھا، جسے مکمل کرنے میں تقریباً دو گھنٹے لگے۔
جوئیں میکفرسن نامی ایک مخصوص آلے کی مدد سے نہایت احتیاط سے نکالی گئیں۔ چونکہ یہ حشرات روشنی کے لیے انتہائی حساس تھے، اس لیے عمل کے دوران مسلسل آنکھوں میں ڈراپس ڈالے گئے تاکہ مریضہ کو درد یا جلن محسوس نہ ہو۔
ڈاکٹر پٹیل نے بتایا کہ اپنے 21 سالہ پیشہ ورانہ تجربے میں انہوں نے اس نوعیت کا کیس پہلی بار دیکھا ہے۔ اس بیماری کو طبّی اصطلاح میں Phthiriasis Palpebrarum کہا جاتا ہے، جو عام طور پر صفائی کی کمی، آلودہ بستر، تکیے یا کمبل کے استعمال اور جانوروں کے قریب رہنے کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے۔
یہ جوئیں بالوں یا پلکوں میں رہ کر تیزی سے پھیلتی ہیں اور جلد کو متاثر کر کے شدید خارش، سوجن اور جلن پیدا کرتی ہیں۔ ماہرینِ چشم کے مطابق اگر اس قسم کی علامات کو نظرانداز کیا جائے تو انفیکشن بڑھ سکتا ہے اور بینائی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
متاثرہ خاتون کا علاج مکمل ہونے کے بعد اگلے روز دوبارہ معائنہ کیا گیا تو ان کی پلکیں مکمل طور پر صاف پائی گئیں۔ کئی ہفتوں تک بے خوابی کا شکار رہنے والی خاتون نے بتایا کہ وہ پہلی رات سکون سے سو سکیں۔
ڈاکٹروں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ذاتی صفائی کی کمی اور آلودہ بستر یا کپڑوں کا استعمال اس طرح کے انفیکشنز کو جنم دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنکھوں میں معمولی خارش یا سوجن کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ کسی بڑے طبی مسئلے کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
جسٹس اطہر من اللّٰہ کا چیف جسٹس کے نام لکھے گئے خط میں ہوشربا انکشافات



