Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

وال اسٹریٹ جرنل کی مودی حکومت پر سخت تنقید، کمزور معاشی اصلاحات کو ناکامی قرار دے دیا

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں بھارت کی کمزور معاشی اصلاحات پر شدید تنقید کرتے ہوئے مودی حکومت کو ناکام قرار دیا ہے۔ اخبار کے مطابق مودی حکومت آزاد منڈی سے متعلق واضح اور جرات مندانہ وژن پیش کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث بھارتی معیشت ساختی مسائل کا شکار ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2025 میں امریکا کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، جو کسی بھی بڑی معیشت پر لگایا جانے والا غیر معمولی اور بلند ترین ٹیرف ہے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ان سخت ٹیرفس نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کی معاشی اصلاحات نہ تو دلیرانہ تھیں اور نہ ہی پائیدار۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق مودی دور میں معاشی اصلاحات غیر مستقل رہیں اور کئی اہم شعبوں میں فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے رہے۔ بینکاری بحران کے بعد اصلاحات دیر سے متعارف کرائی گئیں جبکہ جی ایس ٹی کا ناقص نفاذ حکومت کی بڑی ناکامی قرار دیا گیا۔ اخبار کے مطابق بھارت میں جی ایس ٹی نظام آج بھی عالمی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لیبر اصلاحات میں بڑی اور بنیادی تبدیلیوں سے گریز کیا گیا، جبکہ نان ٹیرف رکاوٹوں نے امریکا کے غصے کو مزید ہوا دی۔ انشورنس اور نیوکلیئر شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) بہت تاخیر سے کھولی گئی، جس سے معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پاور سیکٹر میں اصلاحات کے حکومتی دعوے بار بار ناکام ثابت ہوئے اور سرکاری بجلی کے ادارے اب بھی شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔ اسی طرح زرعی اصلاحات کو سیاسی دباؤ کے تحت واپس لے لیا گیا، جس سے حکومت کی پالیسیوں کی کمزوری مزید نمایاں ہو گئی۔

اخبار نے نشاندہی کی کہ بلند ٹیرف، تحفظ پسند پالیسیاں، زمین، لیبر اور سبسڈی اصلاحات میں مسلسل تاخیر، اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری نہ ہونا مودی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے حقیقی اصلاحات کے بجائے نمائشی اقدامات پر انحصار کیا۔

آخر میں وال اسٹریٹ جرنل نے کہا کہ بھارت کو موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جزوی اقدامات کے بجائے مکمل معاشی اوورہال کی اشد ضرورت ہے، ورنہ مستقبل میں معیشت کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:افغانستان میں طالبان رجیم شدید اندرونی اختلافات کا شکار

یہ بھی پڑھیں