Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

افغانستان میں مبینہ بڑے مندر کی تیاری؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)افغانستان سے آنے والی بعض اطلاعات نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک ایسے مبینہ منصوبے کی خبریں گردش کر رہی ہیں جس کے تحت ایک بڑے ہندو مندر کی تعمیر کی تیاری کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دبئی میں موجود مندروں سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مندر کی مورتی کی تیاری کا عمل جاری ہے اور اس منصوبے میں بھارتی تنظیم ’’اسکان‘‘ (ISKCON) کا کردار ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان پیش رفتوں کو طالبان حکومت اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے افغان سفیر کی بھارت میں سرگرم ملاقاتوں نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جن میں مبینہ منی لانڈرنگ کے خدشات بھی شامل ہیں۔

معروف تجزیہ کار میاں طاہر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ افغان وزیر خارجہ امیر متقی کے حالیہ دورۂ بھارت اور وہاں کی گئی پریس کانفرنس سے طالبان کی پالیسی میں نمایاں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں طالبان قیادت بت شکنی کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتی تھی، جبکہ حالیہ اقدامات کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

میاں طاہر کا کہنا تھا کہ طالبان کی موجودہ قیادت نے بھارت کے لیے سفیر مقرر کر کے عملی طور پر تعلقات کو آگے بڑھایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں ان کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے، کیونکہ بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون پاکستان مخالف تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے طالبان کی معیشت پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اغوا برائے تاوان، منشیات کی پیداوار، اسلحہ کی فروخت اور معدنی وسائل کے غیر شفاف استعمال جیسے عوامل سنگین نوعیت کے ہیں۔ ان کے بقول بدخشاں میں سونے کی کانوں سے حاصل ہونے والی آمدن کے بارے میں بھی شفافیت موجود نہیں۔

نجی ٹی وی کے نمائندہ کی جانب سے اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر مبینہ مندر کی تعمیر میں اسکان تنظیم شامل ہے تو اس سے منسلک مالی معاملات کی شفافیت پر عالمی سطح پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

بھارت کی جانب سے طالبان حکومت کو باضابطہ تسلیم نہ کرنے کے باوجود افغان سفیر کو قبول کرنے پر بات کرتے ہوئے میاں طاہر نے کہا کہ بھارت محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ صورتحال کو اپنے مفادات کے مطابق استعمال کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں