Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

اسرائیلی خاتون جاسوس کیتھرین پیریز شکدم کی ایران میں مبینہ سرگرمیاں، سیکیورٹی ناکامی قرار

تہران/پیرس (نیوز ڈیسک) اسرائیلی نژاد فرانسیسی خاتون کیتھرین پیریز شکدم کی ایران میں مبینہ جاسوسی سرگرمیوں کی تفصیلات ایک بار پھر سامنے آئی ہیں، جنہیں بعض حلقے ایرانی سیکیورٹی نظام کی بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کیتھرین پیریز شکدم نے بظاہر اسلام قبول کرنے اور ایرانی انقلاب کی حمایت کے ذریعے ایرانی حلقوں میں جگہ بنائی۔ وہ خود کو لکھاری، صحافی اور تجزیہ کار کے طور پر پیش کرتی رہیں جس کے باعث انہیں ایران کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں خاصی پذیرائی ملی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے مضامین ایران کی اعلیٰ قیادت سے منسوب ویب سائٹس پر بھی شائع ہوتے رہے۔

ذرائع کے مطابق انہوں نے ایرانی حکام اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور صحافتی تحقیق کے نام پر مختلف حساس علاقوں کا دورہ بھی کیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایرانی سیاست دانوں اور سیکیورٹی اداروں سے وابستہ شخصیات کے ساتھ روابط قائم کیے، جن میں سابق صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات بھی شامل بتائی جاتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کیتھرین پیریز شکدم نے ایرانی حکام، فوجی افسران اور سائنسدانوں کے اہل خانہ خصوصاً خواتین سے قریبی تعلقات قائم کر کے معلومات حاصل کیں۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان روابط کے ذریعے رہائش، نقل و حرکت اور سیکیورٹی سے متعلق حساس معلومات اکٹھی کی گئیں۔

بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ انہی معلومات کی بنیاد پر ایران میں ٹارگٹ کلنگ اور خفیہ کارروائیوں میں مدد ملی، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

اطلاعات کے مطابق جب ایرانی خفیہ اداروں کو ان کی سرگرمیوں پر شبہ ہوا تو وہ ایران چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو گئیں۔ دوسری جانب کیتھرین پیریز شکدم نے 2022 میں اپنے خلاف جاسوسی کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
مزیدپڑھیں:اسرائیل کا ایرانی صدر کے دفتر پر بڑا حملہ؛ متضاد اطلاعات

یہ بھی پڑھیں