یروشلم (نیوز ڈیسک) اسرائیلی حکام نے ایران سے ممکنہ راکٹ حملوں کے خدشے کے پیش نظر مسجدِ اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کر دیا جس کے بعد فلسطینی شہریوں نے جمعہ کی نماز مسجد کے باہر سڑکوں پر ادا کی۔
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ کے اطراف سخت سیکیورٹی نافذ کرتے ہوئے قدیم شہر یروشلم کے بیشتر داخلی راستوں پر چیک پوائنٹس قائم کر دیے۔ اس دوران بڑی تعداد میں فلسطینی شہری مسجد میں داخلے سے روک دیے گئے جس کے باعث لوگوں نے سڑکوں اور بازاروں میں ہی نماز ادا کی۔
اسرائیلی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور ایران کی جانب سے جاری راکٹ حملوں کے خطرے کے باعث جمعہ کے روز یروشلم کے قدیم شہر میں تمام مقدس مقامات تک رسائی عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق یہ اقدام “تمام مذاہب کے ماننے والوں، نمازیوں اور زائرین کی حفاظت یقینی بنانے” کے لیے کیا گیا۔
سڑکوں پر نماز کی ادائیگی
ایک فلسطینی نمازی ابو محمد زغاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ“موجودہ حالات میں جب مسجدِ اقصیٰ بند ہے تو ہم نے دکانداروں اور وہاں سے گزرنے والے لوگوں کے ساتھ مل کر سڑک پر ہی نماز جمعہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ مسلمانوں کے لیے نماز جمعہ ایک مذہبی فریضہ ہے۔”
نماز کے دوران اسرائیلی فورسز کی بڑی تعداد مسجد کے اطراف اور چیک پوائنٹس پر تعینات رہی۔
رمضان کے دوران پابندیوں پر تشویش
ایک اور فلسطینی خاتون نمازی راتبہ النتشہ نے کہا کہ“یروشلم پر قبضے کے بعد یہ پانچواں جمعہ ہے جب مسجدِ اقصیٰ کو نمازیوں کے لیے بند کیا گیا ہے۔ یہ جمعہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ رمضان کے دوران آ رہا ہے اور اسرائیلی اقدامات مسلسل مسجدِ اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات پر بھی کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جس پر فلسطینی عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
خطے میں جنگی صورتحال
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی شدت اختیار کر چکی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور کئی مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں 1200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ امریکی حکام نے بھی اپنے چھ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
مسلسل کشیدگی کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور یروشلم سمیت کئی علاقوں میں سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پاکستان کا شاندار اعزاز، ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی کر لیا



