واشنگٹن / تہران (نیوز ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب بیانات اور پیش رفت نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساحلوں کے قریب تعینات اپنی افواج کو واپس بلانے کا عندیہ دیا ہے، جسے بعض حلقے پسپائی جبکہ دیگر سفارتی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک مجوزہ ٹائم لائن میں کہا گیا ہے کہ اگر دو ہفتوں کے اندر معاملات طے نہ پائے تو امریکی افواج خطے سے نکل جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی نیٹو کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جہاں یہ مؤقف سامنے آیا کہ اتحاد میں عملی جنگی صلاحیت صرف امریکہ کے پاس ہے۔
بیانات میں یورپی ممالک، خصوصاً فرانس اور برطانیہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ اگر وہ مشرقِ وسطیٰ کے وسائل چاہتے ہیں تو انہیں خود اپنی سکیورٹی یقینی بنانا ہوگی۔
دوسری جانب، ایران کی جانب سے خطے میں اپنی عسکری سرگرمیاں جاری رکھنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکی اور اتحادی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین سمیت دیگر مقامات پر ریڈار اور فوجی اڈوں کو نقصان پہنچنے کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ واقعی مکمل انخلا کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں، خصوصاً خلیجی ممالک کی سکیورٹی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں نئے اتحاد بن سکتے ہیں، جبکہ ایران کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان ممکنہ نئے اتحاد کی باتیں بھی زیر گردش ہیں، جو ایران کے بڑھتے اثر کو متوازن کرنے کی کوشش ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ ان تمام دعوؤں اور بیانات کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، اور زمینی حقائق مختلف ہو سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:راولپنڈی، سگی خالہ نے17 سالہ بھانجی کو اغوا کرکے خاوند کے ذریعے جنسی زیادتی کا نشانہ بنوا ڈالا


