بحیرۂ عرب کے اوپر اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک چھوٹا پروپیلر طیارہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز(aircraft carrier) کے قریب پہنچ گیا، جس کے بعد امریکی لڑاکا طیاروں نے فوری طور پر اس کی نگرانی شروع کر دی۔
رپورٹس کے مطابق پائلٹ سم رترفورڈ اور ان کی شریک پائلٹ شینن وونگ ایک ہلکے طیارے میں تقریباً 120 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر رہے تھے کہ اسی دوران امریکی فوج کی جانب سے ریڈیو پر انہیں خبردار کیا گیا کہ وہ ایک جنگی بحری جہاز کے قریب آ رہے ہیں اور فوری طور پر اپنی شناخت واضح کریں۔
یہ واقعہ ایران کے جنوبی ساحلی علاقے کے قریب بین الاقوامی فضائی حدود میں پیش آیا، جہاں حالیہ علاقائی کشیدگی کے باعث امریکی فوجی نگرانی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ پائلٹ کے مطابق ابتدا میں ایک امریکی ایف/اے-18 لڑاکا طیارہ ان کے قریب آیا اور حفاظتی نگرانی شروع کر دی، تاہم ابتدائی رابطہ فوری طور پر قائم نہ ہو سکا۔
مزیدپڑھیے:ایران امریکہ مذاکرات،اسلام آباد میں شہریوں کے لیے ٹریفک ایڈوائزری جاری
بعد ازاں امریکی بحریہ کی جانب سے ہدایت دی گئی کہ طیارہ اپنا رخ پندرہ درجے شمال یا جنوب کی جانب موڑ لے کیونکہ وہ مبینہ طور پر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے فضائی راستے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ اس بحری جہاز پر ہزاروں اہلکار اور متعدد جنگی طیارے موجود ہوتے ہیں۔
پائلٹ نے بتایا کہ صورتحال خاصی پیچیدہ تھی کیونکہ ایک جانب کھلا سمندر تھا جہاں ایندھن ختم ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ دوسری طرف ایران اور پاکستان کی فضائی حدود واقع تھیں، جہاں داخلے کے لیے پیشگی اجازت درکار ہوتی ہے۔
کچھ دیر تک کشیدگی برقرار رہی اور دو امریکی لڑاکا طیارے مسلسل چھوٹے طیارے کے اطراف گشت کرتے رہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
بعد ازاں دونوں جانب سے محفوظ راستے پر اتفاق ہونے کے بعد چھوٹے طیارے کو اپنی منزل کی جانب روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ تقریباً آدھے گھنٹے بعد امریکی لڑاکا طیارے واپس لوٹ گئے اور صورتحال معمول پر آ گئی۔


