یمن کے ساحلی صوبے شبوا کے قریب بحری قزاقی کا ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے تیل بردار (Oil Tanker)جہاز ایم/ٹی یوریکا کو مبینہ طور پر اغوا کر کے خلیج عدن کی سمت موڑ دیا ہے، جس نے عالمی بحری راستوں میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
یمنی کوسٹ گارڈ کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مسلح افراد اچانک جہاز پر سوار ہوئے، عملے کو یرغمال بنایا اور چند ہی لمحوں میں جہاز کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔ اس کے بعد جہاز کو روٹ سے ہٹا کر خلیج عدن کی طرف لے جایا گیا، اور بعد ازاں اطلاعات کے مطابق اس کا رخ صومالیہ کی سمندری حدود کی جانب کر دیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جدید سیٹلائٹ ٹریکنگ اور نگرانی کے نظام کے ذریعے جہاز کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اس کی موجودہ پوزیشن کا تعین کر لیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ادارے مسلسل رابطے میں ہیں اور ہر ممکن زاویے سے صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یمنی حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کے فوراً بعد مشترکہ بحری و سیکیورٹی آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، جس میں کوسٹ گارڈ، نیول فورسز اور دیگر متعلقہ ادارے شامل ہیں۔ اس آپریشن کا مقصد نہ صرف جہاز کو بازیاب کروانا ہے بلکہ عملے کی جانوں کو بھی محفوظ بنانا ہے۔
چین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کردیا، ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنے کا اعلان
ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ حملہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہو سکتا ہے، تاہم تاحال کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا اس واقعے کے پیچھے بحری قزاق گروہ سرگرم ہیں یا کسی بڑے نیٹ ورک کا ہاتھ ہے۔
بحری ماہرین کے مطابق خلیج عدن اور بحیرہ احمر پہلے ہی عالمی تجارت کے لیے حساس ترین سمندری راستے سمجھے جاتے ہیں، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل اور سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس طرح کے واقعات نہ صرف جہاز رانی کے انشورنس اخراجات بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی دباؤ ڈالتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے اس خطے میں بحری حملوں اور اغوا کی کوششوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی بحری افواج کی موجودگی اور نگرانی بھی بڑھائی گئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود ایسے واقعات کا پیش آنا سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امید ہے کہ جلد جہاز کو محفوظ طریقے سے واپس لانے میں پیش رفت ہو گی، جبکہ عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔


