لبنان(Lebanon) میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کم از کم 41 افراد شہید ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق حالیہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب 17 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دے رہی ہے اور جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں نبطیہ، بنت جبیل، شوکین، کفر دجال اور دیگر علاقے شامل ہیں۔ حملوں میں رہائشی مکانات اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کے باعث شہری آبادی شدید متاثر ہوئی۔
لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق نبطیہ کے علاقے شوکین میں ہونے والے حملے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ کفر دجال میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے سے 2 افراد شہید ہوئے۔ اسی طرح لوازیہ میں ایک گھر پر حملے کے نتیجے میں مزید 3 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اسرائیلی فضائیہ نے نبطیہ کے قریب القدس چوک اور ضلع ٹائر کے علاقے صدیقین کے اطراف بھی حملے کیے، جس سے مزید جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جاری کشیدگی کے دوران اب تک 2,659 افراد شہید جبکہ 8,183 زخمی ہو چکے ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
بذریعہ قرعہ اندازی موبائل فون جیتنے والے خوش نصیبوں کے ناموں کا اعلان
دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔
ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیلی افواج پر جوابی حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں مختلف فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق اعلان کردہ جنگ بندی عملاً غیر مؤثر ثابت ہو رہی ہے، جبکہ مسلسل فضائی حملوں اور جھڑپوں کے باعث خطے میں عدم استحکام اور انسانی بحران مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔


