وجے نے تامل ناڈو (Tamil Nadu)کے وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کے فوری بعد اپنی ایک اسمبلی نشست سے استعفیٰ دے دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے نے حالیہ اسمبلی انتخابات میں پیرامبور اور تروچی ایسٹ، دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی، تاہم بھارتی قانون کے تحت ایک وقت میں صرف ایک ہی نشست برقرار رکھی جا سکتی ہے، جس کے باعث انہوں نے تروچی ایسٹ کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق ریاستی وزرا سینگوٹائیان اور وینکٹ رامنن نے وجے کا استعفیٰ اسمبلی سیکرٹری سری نواسن کے حوالے کیا، جبکہ نشست خالی ہونے کے بعد الیکشن کمیشن آئندہ 6 ماہ کے اندر ضمنی انتخاب کرائے گا۔
قبل ازیں وجے نے نہرو انڈور اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں تامل ناڈو کے 13ویں وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ ان سے حلف راجندر وشواناتھ آرلیکر نے لیا۔
اجازت کے بغیر میری تصویر کیوں استعمال کی؟گلوکارہ کا سام سنگ کیخلاف 15 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
وجے کے ساتھ نو دیگر اراکین اسمبلی نے بھی بطور وزرا حلف اٹھایا، جن میں این آنند، آدھو ارجن، ارون راج، سینگوٹائیان اور سی ٹی آر نرمل کمار شامل تھے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وجے نے اعلان کیا کہ وہ جلد ریاست کی مالی صورتحال پر وائٹ پیپر جاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام فوری نتائج کی توقع نہ رکھیں بلکہ حکومت کو کام کے لیے کچھ وقت دیا جائے۔
انہوں نے خواتین کے تحفظ اور منشیات کے خاتمے کو اپنی حکومت کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے سخت اقدامات کا اعلان بھی کیا۔
بطور وزیراعلیٰ اپنے پہلے ہی روز وجے نے کئی اہم فیصلوں کی منظوری دی، جن میں گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ مفت بجلی، خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی ٹاسک فورس کا قیام اور منشیات سے متعلق جرائم کے خلاف اینٹی نارکوٹکس یونٹس کی تشکیل شامل ہے۔
