نئی دہلی: بھارت ہیٹ ویو کے باعث مختلف ریاستوں میں شدید گرمی کی لہر نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد میں ہیٹ اسٹروک کی علامات رپورٹ ہونے کے بعد حکام نے الرٹ جاری کردیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں مارچ سے مئی کے وسط تک ہیٹ اسٹروک کے 325 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ صرف مئی کے آغاز سے اب تک ایک تہائی سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے، جس کے بعد محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کے مطابق ہیٹ اسٹروک ایسی طبی ایمرجنسی ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس دوران چکر آنا، بے ہوشی، متلی، جسمانی کمزوری اور اعضا کے متاثر ہونے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ دہلی سمیت شمالی بھارت کے کئی علاقوں میں 27 مئی تک شدید ہیٹ ویو برقرار رہنے کا امکان ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی کے ایک سرکاری اسپتال میں ہیٹ اسٹروک کے دو مریض انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔
دوسری جانب شدید گرمی کے باعث مختلف اسپتالوں میں پانی کی کمی، اسہال اور گرمی سے متعلق بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ریاست گجرات میں پانی کی قلت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق جب درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہوجائے تو اسے شدید ہیٹ ویو قرار دیا جاتا ہے۔ رواں سال اب تک سب سے زیادہ درجہ حرارت اتر پردیش کے شہر باندا میں 48 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین نے شہریوں کو دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، زیادہ پانی پینے اور دھوپ سے بچاؤ کی ہدایت کی ہے۔


