نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی نامی ایک نئی اور غیر روایتی نوجوان تحریک نے بھارت میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر لی ہے اور اب اس کے بانی نے حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ وہ امریکا سے بھارت واپس آ کر وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے کے لیے نئی دہلی میں پُرامن احتجاج کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، نتائج میں غلطیوں اور تعلیمی نظام کی خرابیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ابھیجیت دیپکے کے مطابق تقریباً 8 لاکھ طلبہ وزیر تعلیم کے استعفے کے حق میں دستخط کر چکے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں۔
کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔ انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد 2 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جسے بھارت میں نوجوانوں کی بڑی آن لائن تحریک قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں بے روزگاری، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور تعلیمی مسائل کے باعث بے چینی پائی جاتی ہے، جس کا اظہار اس نئی تحریک کی مقبولیت سے ہو رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے اس گروپ کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں جبکہ حکومتی وزراء نے اس تحریک پر تنقید کرتے ہوئے اسے بیرونی حمایت حاصل ہونے کا الزام لگایا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں 15 سے 29 سال عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 9.9 فیصد ہے، جو مجموعی قومی شرح سے کئی گنا زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے مسائل اب بھارتی سیاست کا اہم موضوع بنتے جا رہے ہیں۔


