Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

تازہ ترین کالمز

جنگ کے بعد کا منظر نامہ!

کیا پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات کی ایک نئی بساط بچھنے جا رہی ہے؟ اور کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’تاجرانہ حرکیات‘‘ بھارت کی ہٹ دھرمی کو موم کر پائیں گی؟ اِن سوالات کا واضح جواب آنے میں کچھ وقت لگے گا۔ ٹرمپ جلدی میں لگتے ہیں ۔ وہ ایک طاقتور عالمی راہنما کی حیثیت سے اپنا لوہا منوانا

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

(گزشتہ سے پیوستہ) سویڈن کے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2024ء میں دفاع پر86ارب ڈالرخرچ کرنے کا منصوبہ بنایا،جبکہ پاکستان کی مجموعی دفاعی بجٹ محض10ارب ڈالرکے آس پاس ہے۔یہ عدم توازن محض ہتھیاروں کی گنتی کا معاملہ نہیں،بلکہ ایک ایسی جنگی فضاکاآئینہ ہے جس میں دانائی، حکمت اورسفارت کے بغیرامن کی کوئی صورت

پانچ نکاتی قرآنی فارمولا اور کشمیریوں کا درددل

موجودہ حالات میں جب کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی شدید ہے، اور دشمن ہر محاذ پر حملہ آور ہے، قرآن کریم، خصوصاً سورۃ الانفال کی آیات 45-46، ہمیں ایک جامع لائحہ عمل دیتی ہیں۔ فاثبتوا:محاذ پر ڈٹے رہو! سرحدی اور نظریاتی یلغار، دشمن کے حملے، جھوٹے بیانیے اور دبائو کے باوجود اپنے دین، اصولوں، اور قومی مفاد پر

کافر قوموں کی پیشکش اور رسول اکرم ﷺ کا جواب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دورۂ عرب ممالک کے دوران ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کی جو آواز لگائی ہے اس سے پورے خطہ بلکہ عالمِ اسلام کے حالات میں نئی تبدیلیوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں اس لیے اس حوالہ سے کچھ گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ’’ابراہیمی مذاہب‘‘ کی بات خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے

تہذیبی کردار سازی کی ضرورت

ہمارے نزدیک یورپ اور مغربی ممالک سماجی زندگی سے محروم ہیں۔ گو کہ مغربی تہذیب و کلچر کی اپنی الگ حرکیات ہیں مگر ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اہل مغرب کے پاس سوشل لائف نہیں ہے۔ البتہ ان کا معاشرہ کام کے دنوں میں واقعی ایک دوسرے سے گھلنے ملنے کے تصور سے تہی دامن ہے۔ لندن جیسے

’’پانی کی پکار: جنگ کا خدشہ‘‘

آج کی تحقیقی دستاویز میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کے مسئلے پرممکنہ جنگی صورتحال کاایک فکری،قانونی اورتہذیبی تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں تاریخی پس منظر،سیاسی بیانات،فوجی توازن،بین الاقوامی قانون، اورعالمی اداروں کے کردارکاجائزہ لیا ہے۔ تحریر میں ادبی شائستگی،فکری گہرائی اورلسانی وقارکاخاص خیال رکھاگیاہے تاکہ یہ محض ایک رپورٹ نہ ہو بلکہ ایک فکری وعلمی

کالم پروفائل